جیلوں میں اصلاحات کی گئیں، سکیورٹی سخت ہے: آئی جی

لاہور ( انٹر ویو  :میاں علی افضل ) وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے ویثرن کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں وحولاتیوں کی تعلیم و تربیت اور انھیں آئندہ جرائم سے دور رکھنے کیلئے تمام وسائل بروئے کا ر لائے جا رہے ہیں ٹیوٹا اور لٹریسی ڈیپارٹمنٹ سے مل کر خصوصی کورسز کروائے جا رہے ہیں ،ہوم سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلمان کی رہنمائی میں پنجاب کی تمام جیلوں میں بہترین اصلاحات کی گئیں جیلوں کی سیکورٹی کے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں ۔  سیکورٹی فول پروف بنانے کیلئے جیل اہلکاروں کی فوج سے ٹریننگ کروائی گئی  جدید اسلحہ خریدا گیا ، جیلوں میں جیمرز نصب ہیں جبکہ کلوز سرکٹ کیمروں سے چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کی جاتی ہے ۔ فلٹریشن پلانٹ کے ذریعے قیدیوںوحولاتیوں کو صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے  ، قیدیوں و حولاتیوں کو صحت کی کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جیلوں میں پی سی اوز کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے ذریعے قیدی و حوالاتی مخصوص نمبر پر گھر والوں سے بات کر سکتے ہیں سیکورٹی معاملات کیوجہ سے کالوں کا تمام ڈیٹا جیل حکام کے پاس محفوظ ہوتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انسپکٹر جنرل پنجاب جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے ’’نوائے وقت ‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا انھوں نے کہا کہ جیلوں سے 100سالہ پرانے خارشی کمبلوں کا خاتمہ کیا گیا ہے ۔ مخیرحضرات کے تعاون سے سینکڑوں نئے پنکھے لگائے گئے ، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے ڈبل لائنیں لگائی گئی ۔  قیدیوں کو دی جانیوالی خوراک انتہائی معیاری ہے اور کھانے کی چیکنگ کیلئے مختلف ٹیمیں کام کر رہی ہیں جیلوں میں قیدیوں کو دینی تعلیم بھی دی جارہی ہیں اور انھیں 5وقت کا نمازی بنانے کیلئے خصوصی لیکچرر کا بھی اہتمام کیا جا تا ہے میاں فاروق نذیر نے کہا کہ جیلوں کی سیکورٹی اور قیدیوں کو دی جانیوالی سہولیات کی چیکنگ کیلئے مجھ میرے سمیت تما م ڈی آئی جی نے مختلف جیلوں کے سینکڑوں خفیہ دورے کئے فرائض  میں  غفلت  پر سینکڑوں اہلکاروں اور افسران کیخلاف کارروائی کی گئی اور متعدد کو نوکری سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے  ۔