اُسامہ کیس: بریگیڈیئر عثمان خالد کو مطعون کرنے کی آڑ میں آئی ایس آئی کو نشانہ بنایا گیا

لاہور (فرخ سعید خواجہ) آپریشن ضرب عضب کی کامیابی سے جہاں دہشت گرد بوکھلا اٹھے ہیں وہیں ان کے سرپرستوں میں بھی کھلبلی مچ گئی ہے۔ دنیا بھر کی بھارت نواز لابی پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف کس طرح سرگرم عمل ہے اس کی ایک مثال امریکی صحافی کی اسامہ بن لادن کی مخبری کے حوالے سے سٹوری اور اس میں مزید رنگ بھرنے کے لئے دانستہ یا نادانستہ بعض پاکستانیوں کا کردار ہے۔ اسامہ بن لادن کی مخبری کے بارے میں امریکی صحافی نے محض انٹیلی جنس کے ایک سابق افسر کا حوالہ دیا جبکہ ایک پاکستانی صحافی نے ایک بڑے اخباری گروپ کے انگریزی اخبار میں بہت ڈھٹائی کے ساتھ اس افسر کے طور پر بریگیڈیئر عثمان خالد مرحوم کا نام دے دیا اور الزام عائد کیا کہ انہوں نے 25 ملین ڈالر لینے کے ساتھ خود سمیت اپنے اہل خانہ کو امریکی شہریت دلائی۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) جہانگیر کرامت اور سابق بریگیڈیئر حامد سعید نے تصدیق کی ہے کہ بریگیڈیئر عثمان خالد سابق صدر ضیاءالحق کے دور حکومت میں فیملی سمیت برطانیہ منتقل ہوگئے تھے ان کی فیملی نے امریکہ کی شہریت ہرگز حاصل نہیںکی۔ بریگیڈئر عثمان خالد کا پچھلے سال انتقال ہوا۔ وہ کبھی آئی ایس آئی میں نہیں رہے۔1980ءمیں ضیاءالحق سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں بریگیڈیئر عثمان خالد نے ان سے سوال پوچھا کہ آپ نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کیوں دی؟ جس پر ضیاءالحق نے جواب دیا تھا کہ پھانسی انہوں نے نہیں عدالت نے دی۔ یہی سوال دیگر دو کورس میٹ کرنل سرور چیمہ اور کرنل گلفراز نے بھی مختلف انداز میں پوچھا۔ ان تینوں کو کچھ ہی عرصے بعد ان کی یونٹوں میں بھیج دیا گیا۔ کرنل سرور چیمہ اور کرنل گل فراز نے تنگ آکر استعفے دے دیئے۔ بریگیڈیئر عثمان خالد نے فیملی سمیت برطانیہ میں شہریت اختیار کرلی۔ کرنل سرور چیمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پر سیاست میں آگئے اور 1988ءمیں شہید بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں وزیر دفاع بنے۔ کرنل گلفراز کو او جی ڈی سی میں اہم عہدہ دیا گیا۔ بریگیڈیئر (ر) عثمان خالد برطانیہ ہی میں رہے جہاں وہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لئے عالمی سطح کے سیمینارز کراتے جس میں پاکستان سے بھی زعما شریک ہوئے۔ بھارت کی کشمیر میں درندگی کو دنیا کے سامنے لایا جاتا تھا۔2007ءمیں بریگیڈیئر عثمان خالد کو کینسر کا عارضہ لاحق ہوا۔ اس مرض سے 2014ءمیں ان کا انتقال ہوا۔ 25 ملین ڈالر جیسی خطیر رقم کی انہوں نے کبھی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔ بریگیڈیئر (ر) حامد سعید نے نوائے وقت کو بتایا کہ جنرل جہانگیر کرامت بریگیڈیئر عثمان خالد کے دوستوں میں سے تھے۔ جب جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف تھے تو انہوں نے بریگیڈیئر عثمان خالد سے کہا آپ فوج سے بھاگ کر چلے گئے تھے اس لئے کبھی وطن واپس نہیں آسکیں گے، بہتر ہوگا کہ آپ واپس آکر خود کو کورٹ مارشل کے لئے پیش کریں۔ عثمان خالد نے دوست کی رائے تسلیم کی وہ واپس آئے ان کا کورٹ مارشل ہوا اور سزا ہوگئی۔ ضعیف العمری کی وجہ سے ان کی سزا معاف کردی گئی۔ بریگیڈیئر عثمان خالد کو مطعون کرنے کی آڑ میں آئی ایس آئی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کا مقصد فوج کو بدنام کرنا بھی ہے۔ بریگیڈیئر (ر) حامد سعید کے مطابق اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔
بریگیڈیئر عثمان