ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان اقلیتوں کیلئے محفوظ پرامن ملک ہے: سردار بشن سنگھ

لاہور(خصوصی نامہ نگار)دےال سنگھ رےسرچ اےنڈ کلچرل فورم کے زےر اہتمام دیال سنگھ آڈیٹوریم میں سِکھ مذہب کے پانچویں گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دِن کے حوالے سے ”گورو ارجن دیو جی اور مذہبی رواداری“کے موضوع سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ برصغیر میں گورو ارجن نے برہمن ازم کے نام پر ہونے والے استحصال کے خلاف بھرپور آواز اُٹھائی، وہ ذات پات کی بنیاد پر تقسیم ہندو سماج کے کٹڑ مخالف تھے۔ سیمینار میںبھارت سے گورو ارجن دیو جی کے شہیدی دِن کی تقریبات میں شرکت کے لئے پاکستان آنے والے سِکھ یاتریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی، اس موقع پر متروکہ وقف املاک بورڈ کے سیکرٹری شرائنز خالد علی نے کہا کہ بورڈ نے مسلم سِکھ سانجھ کو مضبوطی دینے کے لئے ہی سِکھ گُردواروں کی دیکھ بھال اور تعمیر نو کے کرورڑوں روپے کے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔پاکستان سِکھ گُردوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردار شام سنگھ نے کہا کہ گورو ارجن نے برصغیر میں مذہبی رواداری کو بڑھاوا دینے کے لئے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ پاکستان سِکھ گُردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق پردھان سردار بشن سنگھ نے کہا کہ پاکستان ہندوستان کے مقابلے میں اقلیتوں کے لئے انتہائی محفوظ اور پُر امن ملک ہے، یہاں اقلیتوں کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ اُنہوں نے برہمن ازم کو برصغیر میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ بھارت میں 1984ءمیں سِکھوں کا قتلِ عام اور 2002ءکے مسلم کُش فسادات بھی برہمن کی تنگ نظر اور قابض پرستانہ سوچ کا نتیجہ تھے۔