مقدمہ درج ہونے سے کوئی مجرم نہیں بن جاتا، ٹھوس وجہ کے بغیر کسی کو جیل میں نہیں رکھا جا سکتا: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مقدمہ درج ہونے سے کوئی مجرم نہیں بن جاتا۔ کسی ملزم کو ٹھوس وجہ کے بغیر جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا۔ مسٹر جسٹس عبد السمیع نے یہ ریمارکس خیانت مجرمانہ کے مقدمے میں ملوث ملزم محمد وارث کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران دئیے۔ فاضل عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔ درخواست گذار کے وکیل محمد اظہر صدیق نے کہا کہ مدعی شناور شہزاد بہت طاقتور آدمی ہے اور اُس نے ملزم کو کئی جھوٹے مقدمات میں پھنسایا ہے۔ دونوں ایف آئی آرز میں تضاد ہے۔ پولیس نے جھوٹی ریکوری ڈالی جس کی بابت مختلف درخواستیں دیں گئیں اور ملزم گذشتہ پانچ مہینے سے جیل میں ہے چالان ملی بھگت سے داخل کیا گیا مگر نامکمل تھا اور خالی چالان داخل ہو جانے سے ضمانت کا حق محروم نہیں کیا جا سکتا۔ مدعی شناور علی کے وکیل نے م¶قف اختیار کیا کہ نوے لاکھ روپیہ ملزم نے دینا ہے اور اُس سے کاغذ برآمد ہوا ہے۔ مسٹر جسٹس عبدالسمیع خان نے استفسار کیا کہ آپ کے دونوں پرچوں میں تضاد ہے کیا کسی انسان کا جرم ثابت نہ ہو جائے جیل میں رکھا جا سکتا ہے؟ سنگین نوعیت کے مقدمات اور جہاں ملزم شہادتیں بدل سکتا ہے وہاں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اِس مقدمہ میں چالان جمع ہو چکا ہے اور پولیس کو انویسٹی گیشن کے لئے درکار نہیں ہے۔ مسٹر جسٹس عبدالسمیع خان نے ریمارکس دئیے ہمارے ملک میں فوجداری اور دیوانی نظام موجود ہے تو دونوں نظاموں کو سامنے رکھتے ہوئے عدالتوں نے فیصلہ کرنا ہے اور کسی کی آزادی کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔