ریلوے کیلئے وزیراعظم سے فنڈز مانگتے شرم آتی ہے: سعد رفیق

ریلوے کیلئے وزیراعظم سے فنڈز مانگتے شرم آتی ہے: سعد رفیق

لاہور(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے مجھے ریلوے کو بحران سے نکالنے کا ٹاسک دیا ہے ۔ہمارا ٹارگٹ ایک ہی ہے کہ ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانا ہے ڈسپلن کا پابند ہوں، نہ ڈسپلن خود توڑتا ہوں اور نہ ہی توڑنے دوں گا۔ مجھ پر نہ تومسلم لیگ ن کا دباﺅ ہے اور نہ ہی وزیراعظم سیکرٹریٹ نے میرے کام میں مداخلت کرنی ہے کرپشن اور بے ضابطگی کو روکنے کے لئے ویجیلنس بہت ضروری ہے کرپشن اور بے ضابطگی کے خلاف احتساب کا شکنجہ حرکت میں آئے گا اس کا آغاز پہلے بڑے افسروں سے ہوگا اس کے بعد چھوٹے اور پھر ملازمین کا احتساب کیا جائے گا۔ بنک لوٹنے والے اور اربوں روپے ہضم کرنے والے سیاسی لیڈر بن جاتے ہیں، جرنیلوں کو کو ئی پکڑنے والا نہیں، پانچ ہزار روپے کی چوری کرنے والے کو ڈکیت کہہ کر گولی سے مار دیا جاتا ہے۔ ہم چوروں اور کرپٹ لوگوں کو پکڑیں گے۔ اب احتساب او پر سے شروع ہوکر نیچے جاکر اختتام پذیر ہوگا۔ ریلوے کی نجکاری نہیں ہوگی۔ ملازمین کا احتجاج حق ہے لیکن وہ اس بنیادی حق کو استعمال کرتے ہوئے قانون کو ضرور مدنظر رکھیں انجن روک کر میرے پاس مذاکرات کے لئے آئیں گے تو پھر میں بات نہیں کروں گا اگر کروں گا تو پھر کسی وجہ سے ہی کروں گا ورنہ گھر چلا جاﺅں گا ان خیالات اظہار انہوں نے ریلوے ملازمین سے ریلوے ہیڈکوارٹر میں خطاب اور انکے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا۔ سعد رفیق نے کہا کہ ریلوے کے حالات بڑے گھمبیر ہوگئے ہیں۔ جنگ کرپشن کے خلاف لڑنا ہوگی۔ لوٹ مار کا راستہ بند کرنا ہو گا۔ آمدنی بڑھانی اور اخراجات کم کرنا ہونگے۔ اس راستے پر نہ چلے تو میں ریلوے کی تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوں۔ وفاقی حکومت اپنے پاس سے رقم خرچ کررہی ہے لیکن یہ سب کب تک چلے گا ریلوے کب تک حکومت پر بوجھ بنا رہے گا۔ مجھے تو شرم آتی ہے کہ کہ وزیراعظم کے پاس فنڈز لینے جاﺅں۔ میں ان سے پیسے نہیں مانگ سکتا۔ پہلے سال ریلوے سرکے گی اس کے بعد پھر پاﺅں پر کھڑے ہو گی اور پھر دوڑے گی۔ تیل چوری کرنے والوں کو بھی پکڑیں گے اور خریداری میں گھپلے کرنے والوں کو بھی۔ ریلوے میں سیاسی بھرتیاں نہیں کی جائیں گی اپنے حلقے کے لوگ بھرتی نہیں کروں گا۔ ریلوے میں فی الحال بھرتی کا عمل روک دیا ہے۔ نجکاری کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے ہم چاہتے ہیں کہ پرائیویٹ سرمایہ کار ریلوے میں آئیں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ریلوے کو چلایا جائے۔ ریلوے کی زمینوں کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔
سعد رفیق