بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینا کشمیریوں کے خون سے غداری ہوگا: فرید پراچہ

بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینا کشمیریوں کے خون سے غداری ہوگا: فرید پراچہ

لاہور (نیوز رپورٹر) ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا ہے کہ ہندوﺅں کا ذہن ہے کہ پاکستان میں سے پاکستانیوں کو ملا کر ملک کو توڑا جائے۔ بھارت کی تمام سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتی ہیں، ان سیاسی جماعتوں کے اپنے منشور میں مسلمانوں کو ختم کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ ایک قاتل ملک بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دے کر انہیں 18 کروڑ مسلمانوں کی منڈی دی جارہی ہے۔ کشمیر کے مسئلے کو حل کئے بغیر بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا کشمیریوں کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان میں ”بھارت کے لئے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر چہ معنی“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے کیا۔ نظامت کے فرائض ڈائریکٹر ابصار عبدالعلی نے انجام دیئے۔ ڈائریکٹر فرید احمد پراچہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی سابقہ حکومتوں کی نااہلی تھی کہ انہوں نے آج تک کوئی بڑا آبی ذخیرہ 1974 کے بعد سے نہیں بنایا۔ بھارت اب تک 4192 ڈیم بناچکا ہے۔ مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، پیپلز پارٹی اور فوج سب سے زیادہ اقتدار میں رہے مگر ڈیم نہیں بنا سکے۔ انہوں نے کہا ہم اپنے کاشتکار کسان کوبدحال کرکے بھارت کو پاکستان کی منڈی کیوں دینا چاہتے ہیں۔ ممبر پنجاب اسمبلی و مسلم لیگ کے رہنما زعیم قادری نے کہا کہ دنیا میں اب جنگیں بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں سے جو معاشی بحران دنیا میں آیا ہوا ہے، اس نے تمام ملکوں کو اپنے اندر جکڑ رکھا ہے۔ پاکستان کو پاکستان کی نظریاتی حدود، نظریاتی اساس اور اپنے تشخص کو سامنے رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی بنانا ہوگی۔ ہم 60 برسوں سے اپنے صوبوں کے اندر ہم آہنگی پیدا نہیں کرسکے جس کا نقصان یہ ہورہاہے کہ آج 38 فی صد پانی سمندر کی نظر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے بھارت سے تجارتی لسٹ بدنیتی کی بنیاد پر بنائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1999 میں ہم اپنی پالیسیوں کے ذریعے بھارت کو محکوم کرنا چاہتے تھے مگر ہمیں ڈکٹیٹر نے ایسا نہ کرنے دیا۔ ہم بھارت سے برابری کی سطح پر تعلقات قائم کرنا چاہتے تھے مگر مشرف نے ہمیں کمزور کردیا۔ مشرف کی پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر کو نقصان پہنچا۔ صدر فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان ڈاکٹر محمد طارق بچہ نے کہا کہ بھارت واہگہ کے ذریعے ہم سے تجارت کرنا چاہتا ہے کیونکہ بھارت کی خواہش ہے کہ واہگہ کے ذریعے سنٹرل ایشیا، ایران تک رسائی حاصل کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اپنے کسانوں کو 66 بلین ڈالر کی سبسڈی دے رہا ہے اور ہم نے زرعی مداخل پر جی ایس ٹی لگا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے برابری کی بنیاد پر تجارت کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت پر ہم کشمیر اور پانی کے مسئلے کو نہیں بھول سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔ اگر حکومت پاکستان نے بروقت اور درست فیصلہ نہ کیا تو پاکستانی کاشتکار، زمیندار اور مینوفیکچررز خوار ہوجائے گا۔ پاکستانی حکومت کے بھارت کے ساتھ روابط ضروری ہیں مگر ہم اپنے مسائل کو پس پشت نہیں ڈال سکتے۔ اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان کا بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تجارت کی جائے۔ ماہر معیشت پروفیسر ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ ا سوقت اہم مسئلہ معاشی ہے اگر ہم اپنے لوگوں کو مراعات دینے کی بجائے دشمن کو زیادہ مراعات دیں گے تو مسائل کبھی کم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرہم بھارت کے ساتھ تجارت کریں تو اپنے مینوفیکچررز، کاشتکار، گرورز کو مراعات دینا ہوں گی۔ اگر ایسا نہ کرسکے تو آئندہ ہماری پراڈکٹس دنیا میں مہنگی ملیں گی۔ دنیا کی پراڈکٹس سستی ہوں گی جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات عالمی منڈی میں اپنی جگہ نہیں بنا سکیں گی۔ پاکستان اپنی پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے، اس لئے ضروری ہے ہم اپنی تجارتی منڈیوں کو بڑھائیں۔ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا چکا ہے، اس لئے ہم کو اپنی اصلاح کرنا ہوگی۔ سینئر صحافی تاثیر مصطفی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تجارت کرنا ہوگی، اس لئے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان بھارت کے ساتھ تجارت کرتے وقت تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کرے۔ بھارت سے اگر تمام تجارتی روابط برابری کی بنیاد پر ہوتے ہیں تو یقینا ہم اپنے اجیروں کو فائدہ دے سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امن کیلئے ضروری ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرے اور پاکستانی دریاﺅں پر قبضہ کرنا بند کرے۔ اس وقت جوبھی حکومت ہے اس کو چاہئے کہ عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کرے۔