بجٹ منظوری سے قبل ہی قیمتوں میں اضافے پر مزدوروں، عوام، سیاستدانوں کا احتجاج

لاہور (کلچرل رپورٹر + اپنے نامہ نگار سے + خبرنگار + خصوصی نامہ نگار) بجٹ منظوری سے قبل ہی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ پر عوامی حلقوں، سیاسی رہنماﺅں اور مزدوروں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ عوامی حلقوں نے اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جوہر ٹاﺅن کے طًیب میر نے کہا کہ بجٹ تقریر کے بعد اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔ کینٹ کے فاروق عاقل نے کہا ہے کہ عوام نے حکمرانوں کو مسائل کے حل کیلئے مینڈیٹ دیا مگر ایسا نہیں ہوا۔ ناصر گبیریل نے کہا ہے کہ بجٹ تو ابھی منظور نہیں ہوا مگر اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی رٹ نہیں ہے۔ فیصل ٹاﺅن کے محمد قاسم نے کہا ہے کہ حکمران اپنی شاہ خرچیاں بند کریں۔ دریں اثنا امیر جماعت اسلامی منورحسن نے کہاکہ قوم کو بجا طور پر امید تھی کہ مسلم لیگ ن کی حکومت عام آدمی کو درپیش مشکلات میں کمی کریں گے اور بجٹ کے بعد کمر توڑ مہنگائی میں خاطر خواہ کمی آئے گی لیکن عوام کی امیدوں کے چراغ گل کر دیئے گئے ہیں، سیلز ٹیکس میں اضافے سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگیاہے، انہوں نے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کو غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا اور کہاکہ اس سے عام آدمی کی بجائے امیر طبقے کو نوازنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پیغام یونین کے صدر ایس ڈی ثاقب نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ میں عام آدم یکو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا گیا ٹیکس کے نفاذ سے مہنگائی میں دوگنا اضافہ ہو جائے گا۔ یہ مزدور کش بجٹ ہے۔ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر تنخواہوں میں 30 فیصد اور پینشن میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ نعیم بلوچ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے مزدور دوست ہونے کا ثبوت تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کرکے دیا۔ توقیر اسلام نے کہا کہ بھاری مینڈیٹ والی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے بھاری بھر کم ٹیکس لگا کر مزید مہنگائی کے کنویں میں دھکیل دیا۔ مزدور رہنما احسان احمد چودھری نے کہا کہ عوام نے موجودہ حکومت کو اس لئے منتخب نہیں کیا کہ وہ عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے انہیں مسائل کی دلدل میں مزید دھکیل دیں۔ قوم اب شیر کو ووٹ دینے کا خمیازہ بھگت رہی ہے بجٹ نہیں عوام پر خودکش حملہ کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے شوکت بسرا، اورنگزیب برکی اور دیوان غلام محی الدین نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے والے غریب ووٹرز اب پچھتا رہے ہیں انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ میاں برادران غریب پرور نہیں ہیں۔ یہ صرف اپنے بالائی اشرافیہ کے طبقے اور اپنے کاروباری طبقے کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔