بجلی کا بحران جاری‘ 12 سے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر لوگ سراپا احتجاج

لاہور+ کراچی (ایجنسیاں+ کرائمز رپورٹر) ملک بھر میں بجلی کا بحران جاری ہے، مختلف شہری علاقوں میں 12سے 14جبکہ دیہی علاقوں میں 18سے 20گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ رک نہ سکا‘ وزارت پانی وبجلی نے رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی خصوصاً سحر اور افطار کے اوقات میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے ہوم ورک شروع کر دیا۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کے مطابق بجلی کی مجموعی طلب 16 ہزار 500 میگاواٹ جبکہ پیداوار 12 ہزار میگاواٹ ریکارڈ کی گئی۔ ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4500 میگاواٹ تک ہو گیا، بدترین لوڈشیڈنگ پر شہری سراپا احتجاج بنے رہے جبکہ کئی شہروں میں پانی کی قلت رہی۔ پنجاب کے شہروں میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال ابتر ہے جبکہ صوبہ پنجاب ، سندھ ، خیبر پی کے کے مختلف شہروں میں کئی کئی گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ فیصل آباد میں لوڈشیڈنگ کے خلاف پرتشدد مظاہرہ کرنے پر 500نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ بلوچنی میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ جس پر لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام نے پولیس کے روایتی حربوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران لوگوں کے گھروں میں گھس کر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر بدترین تشدد کرنے کے باوجود صرف چار سے پانچ پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے جبکہ لوڈشیڈنگ کے ستائے بے یارومددگار غریب عوام پر مقدمہ نامعلوم افراد کی مد میں درج کر کے انہیں پولیس گردی کا نشانہ بنانے کے روایتی حربے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ادھر کراچی میں بجلی کا بحران سنگین ہو گیا، جھلسا دینے والی گرمی میں بجلی کی طویل بندش شہریوں کیلئے عذاب بن گئی، ناظم آباد، پاپوش نگر، گلبہار اور لیاقت آباد سمیت کئی علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ پر شہریوں نے احتجاج کیا، ناظم آباد میں کے ای ایس سی کے شکایتی مرکز پر حملہ کرکے عملے کو زدوکوب اور فرنیچر کو آگ بھی لگائی، چاﺅلہ مارکیٹ کے نزدیک واقع کے ای ایس سی کے شکایتی مرکز پر مشتعل افراد کے حملے پر عملے کے افراد نے بھاگ کر جان بچائی۔ اس موقع پر مشتعل افراد نے دفتر کا فرنیچر اور سامان باہر نکال کر آگ لگانے کے علاوہ سڑکوں پر ٹائر جلائے اور گاڑیوں پر پتھراﺅ بھی کیا۔ لیاقت آباد، گلبہار اور دیگر کئی علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ پر سراپا احتجاج بنے دکھائی دئیے۔
لوڈشیڈنگ