’’منی لانڈرنگ کیس، جرم ثابت ہونے پر الطاف کو 10 سال تک قید ہو سکتی ہے‘‘

لاہور (ایف ایچ شہزاد سے) ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو سکاٹ لینڈ یارڈ کی تفتیش اور ممکنہ عدالتی ٹرائل میں تین بنیادی اور پانچ ضمنی سوالات کا سامنا رہے گا۔ برطانیہ کے مروجہ قوانین کے مطابق یہ سوالات کلیئر نہ ہونے پر منی لانڈرنگ کا مضبوط مقدمہ بنتا ہے جس میں جرم ثابت ہونے پر 3 سے10سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ برطانوی پولیس سب سے پہلے الطاف حسین کے گھر سے برآمد ہونے والی رقم پر ٹیکس کی ادائیگی کی تفتیش کر رہی ہے۔ تفتیش کا دوسرا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ رقم کو جن مقاصد کیلئے برطانیہ منتقل کیا وہ کس حد تک برطانوی قوانین سے متصادم ہیں۔ تیسرے بنیادی نکتے میں اس پہلو پر تفتیش کی جا رہی ہے کہ برطانیہ منتقل کی گئی رقم کسی جرم میں استعمال تو نہیں ہوئی۔ ضمنی سوالات میں ان نکات پر تفتیش ہو رہی ہے کہ برآمد شدہ رقم منتقل کرنے کا ذریعہ کیا ہے جبکہ الطاف حسین کسی کاروبار اور سروس کے بغیر لندن میں زندگی گذارنے کے اخراجات کیسے پورے کر رہے ہیں۔ جن افراد اور کمپنیوں کے ذریعے رقم لائی گئی ان کے کاروبار کی نوعیت کیا ہے۔ جن ممالک سے برطانیہ میں رقم لائی گئی وہاں کے قوانین کو رقم لاتے ہوئے کس حد تک فالو کیا گیا۔ برطانوی پولیس نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد الطاف حسین پر فرد جرم عائد کر دی تو پھر معاملہ برطانوی عدالت کے سپرد ہو جائے گا جہاں پولیس تفتیش میں حاصل کئے گئے ثبوت اور دستاویزات عدالت کے سپرد کر دے گی۔ اگرچہ ایم کیو ایم کے ذرائع برطانیہ میں الطاف حسین سے منی لانڈرنگ کے الزام میں کی جانے والی تفتیش اور پاکستان میں عمران فاروق قتل کیس میں ہونے والی گرفتاریوں کو دو مختلف واقعات قرار دے رہے ہیں مگر حکومت کے باخبر قانونی ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان میں تفتیشی اداروں کی سطح پر اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ دونوں مقدمات ایک دوسرے سے انٹرلنک ہیں۔ حکومت نے برطانوی پولیس کو پاکستان میں گرفتار افراد تک رسائی اور تفتیش کی اجازت دے دی تو دونوں مقدمات میں بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔
قید ہو سکتی ہے