یمن تنازعہ: فوری سفارتی کوششیں شروع کی جائیں: سکیورٹی ذرائع

لاہور (جواد اعوان/ نیشن رپورٹ) سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع نے کہا ہے کہ یمن تنازع سے نمٹنے کیلئے حکومت کو فوری سفارتی مہم شروع کرنا چاہئے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق یمن میں جاری لڑائی سے سعودی عرب کو کسی قسم کا فوری اور براہ راست خطرہ درپیش نہیں ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب میں فوج بھیجنا اشتعال انگیز بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے زور دیا کہ ابتدائی طور پر اس معاملے سے نمٹنے کیلئے ہنگامی سفارتی اقدامات کرنا چاہئیں۔ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے باخبر ذرائع نے ’’دی نیشن‘‘ کو بتایا کہ فوجی قیادت سیاسی قیادت کی ہدایات پر عمل کرنے کو تیار ہے لیکن برادر اسلامی ملک کو فوری خطرہ درپیش نہ ہونے کی وجہ سے وہاں فوجی بھیجنے کا مشورہ نہیں دیا جا سکتا۔ بالخصوص اس صورت میں جب فوج اندرونی حالات کی وجہ سے پہلے ہی مختلف محاذوں پر مصروف عمل ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج حرمین شریفین کے تحفظ سمیت سعودی عرب کے اندر رہ کر اسکی مدد کریگی تاہم سعودی عرب کے باہر عرب ممالک خود ہی صورتحال کو کنٹرول کرینگے۔ ذرائع کے مطابق سعودی، یمن تنازعہ عالمی طاقتوں کے ’’بڑے منصوبے‘‘ کا ایک حصہ ہے۔ اس منصوبے سے عالمی طاقتیں مسلم دنیا کو جنگوں میں دھکیل کر فوائد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ذرائع نے تجویز دی مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں اقوام متحدہ کی چھتری تلے مسلم ممالک کے فوجوں کے ذریعے اس تنازعہ سے نمٹنا بہتر ہوگا۔ اگر تمام مسلم دنیا اس معاملے میں شریک ہو جائے تو اس تنازعہ کو فرقہ وارانہ لڑائی بننے سے بچایا جاسکے گا۔