لاہور پولیس قانون شکن بن گئی،اختیارات سے تجاوز پر 567 افسروں، اہلکاروں کو سزائیں

لاہور (احسان شوکت سے) قانون کی محافظ پولیس خود قانون شکن بن گئی۔ رواں سال تین ماہ کے دوران صرف لاہور میں اختیارات سے تجاوز، شہریوں کے گھروں میں ناجائز چھاپوں، شہریوں سے بدتمیزی و ہراساں کرنے، جھوٹے مقدمات، کرپشن، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، علاقہ میں جرائم پر کنٹرول نہ پانے اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے پر پولیس حکام نے 25 ایس ایچ اوز اور انسپکٹرز سمیت 567 افسران، اہلکاروں کوملازمت سے برطرفی، معطلی، سروس ضبطی، عہدہ میں تنزلی، انکریمنٹ روکنے، سنشور سمیت دیگر سزائیں دی ہیں۔ سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے 2 تھانیداروں سمیت 15 پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف جبکہ 10 پولیس اہلکاروں کے عہدوں میں تنزلی، سروس کی ضبطگی اور جبری ریٹائرمنٹ کی سزائیں دیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے 3 ایس ایچ اوز سمیت 119 اہلکاروں کو نوکری سے برخاست، 3 اہلکاروں کو جبری ریٹائر، 27 سابقہ فوجی پولیس کانسٹیبلوں کو برطرف، 13 سابق فوجی پولیس کانسٹیبلوں کا کنٹریکٹ ختم، 129 اہلکاروں کی سروس ضبط جبکہ 387 اہلکاروں کو مختلف محکمانہ سزائوں کے احکامات جاری کئے۔ ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف نے اختیارات سے تجاوز کرنے، شہریوں کے گھروں میںناجائز چھاپے مارنے، بدتمیزی و ہراساں کرنے، جھوٹے مقدمات کے اندراج، کرپشن، علاقہ میں جرائم پر کنٹرول نہ پا سکنے اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے پر ایس ایچ او تھانہ کوٹ لکھپت عمران قمر پڈانہ کو 10 افسران و اہلکاروں سمیت معطل کردیا ان میں ایس ایچ او کاہنہ انسپکٹر شاہد علی بھی شامل ہیں۔ ایس ایچ او داتا دربار احمد عدنان سلطان، سب انسپکٹر منظور احمد، سب انسپکٹر محمد نواز سمیت 5 اہلکاروں کو منشیات فروشوں کی سرپرستی پر معطل کیا۔ ایس ایچ او بھاٹی مظہر اقبال کو معطل کردیا۔ ایس ایچ او عبدالقیوم اور سب انسپکٹر ریاض احمد کے 1 سال کی انکریمنٹ روکنے کے احکامات جاری کئے۔ ایس ایچ او گجرپورہ قمر عباس کو سنشور، شہری سے بدسلوکی کرنے پر سب انسپکٹر عاطف ذوالفقار کو سنشور، ایس ایچ او نواب ٹائون آصف خان کو 5 ہزارجرمانہ، غلام دستگیر، عاطف معراج، کامران زمان، مستنیر احمد، طاہر محمود کوسنشور، اعجاز احمد، عاطف عباس، ناصر عباس، طارق پرویز، کامران زمان کی سروس ضبطگی، غلام دستگیر، ریاض احمد کی سالانہ انکریمنٹ سٹاپ کرنے، انسپکٹر علی اجود کی 6 ماہ کی سروس ضبط، سب انسپکٹر ندیم خالد کی 2 سال سروس ضبط، سب انسپکٹر عاصم جہانگیر کی تنزلی کی گئی ہے۔ قائم مقام ڈی آئی جی انویسٹی گیشن راناایاز سلیم نے انچارج انویسٹی گیشن شیرا کوٹ محمد اکمل اور تفتیشی افسر سب انسپکٹر جاوید اقبال کو معطل، انچارج انویسٹی گیشن ہڈیارہ انسپکٹر محمد شعیب، انچارج انویسٹی گیشن لوئرمال شفقت علی، انچارج انویسٹی گیشن باٹا پور محمد صدیق، انچارج انویسٹی گیشن ریس کورس، فلک شیر، انچارج انویسٹی گیشن گلشن اقبال نورالحسن اور انچارج انویسٹی گیشن قائداعظم انڈسٹریل سٹیٹ سب انسپکٹر احسان اللہ، انچارج انویسٹی گیشن ہڈیارہ محمد شعیب، انچارج انویسٹی گیشن قلعہ گجر سنگھ محمد عادل اور انویسٹی گیشن ڈیفنس سی کے سب انسپکٹر قادر بخش کو دو دو سال کی سروس ضبطگی، انچارج انویسٹی گیشن غازی آباد غلام ثقلین کو چار سال کی سروس ضبطگی کی سزا دی ہے۔ واضح رہے سزا یافتہ افسران و اہلکار اثرورسوخ اور سفارش کی بناء پر چند روز بعد ہی دوبارہ بحال اور تعینات ہوجاتے ہیں۔ انسپکٹر امجد علی کو عہدے پر تنزلی، سروس ضبطگی سمیت 4 مختلف سزائیں دی گئی ہیں۔