حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملاکر تحریک چلائینگے: حافظ سعید

لاہور+ حافظ آباد+ قلعہ دیدار سنگھ (خصوصی نامہ نگار+ نمائندہ نوائے وقت+ نامہ نگار)امیر جماعۃ الدعوۃ پروفیسر حافظ محمد سعید نے تحفظ حرمین شریفین کیلئے مذہبی و سیاسی جماعتوںکو ساتھ ملا کر ملک گیر سطح پر بھرپور تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پہلے مرحلہ میں آج 15 اپریل گوجرانوالہ، کل 16 اپریل لاہور، 18 اپریل ایبٹ آباد ہزارہ اور 19 اپریل کو پشاور میں تحفظ حرمین شریفین کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائیگا، اسی طرح 17 اپریل جمعہ کو پورے ملک میں سعودی عرب کی حمایت میں مظاہرے کئے جائیں گے۔ سب سے بڑا پروگرام فیصل آباد میں ہو گا، وزیراعظم نوازشریف کے سعودی عرب کو سٹریٹیجک پارٹنر قرار دینے سے غلط فہمیاں دور ہوجانی چاہئیں، حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی ہر ممکن مددوحمایت کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے مرکز القادسیہ چوبرجی میںڈاکٹر فرید پراچہ، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، پیر سیف اللہ خالد، مولانا سیف الدین سیف، قاری محمد یعقوب شیخ اور مولانا ابو الہاشم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ تحفظ حرمین شریفین کے مسئلہ پر او آئی سی کا اجلاس بلا کر مسلم ملکوں کو متفقہ لائحہ عمل قوم کے سامنے لانا چاہئے۔ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کا مطالبہ ہے کہ یمن میں وہاں کی منتخب حکومت کو بحال کیا جائے کیونکہ اگر وہاں بغاوت ختم نہیں ہوتی تو پھر قرب و جوار کے علاقے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ اس بنیاد پر سعودی عرب نے پاکستان سے بھی مدد طلب کی۔ اصولی طور پر اس حساس مسئلہ پر ان کیمرہ اجلاس ہونا چاہئے تھا۔ بہرحال وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ پالیسی بیان کی وجہ سے کافی حد تک غلط فہمیاں دور ہو ئی ہیں۔ وزیراعظم نے واضح طور پر حوثیوں کی بغاوت کی مذمت کی۔ یمن میں منتخب حکومت کی دوبارہ بحالی کامطالبہ کیا۔ اسی طرح وزیر اعظم نواز شریف نے سعودی عرب کو اپنا سٹرٹیجک پارٹنر قرار دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ساری بحث ختم ہوجاتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ مذہبی و سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر ملک میں پائی جانے والی مایوسی اور بے چینی کو ختم کرنا چاہیے۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملہ پر بھی اتحادویکجہتی کاماحول پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ یمن میں فرقہ وارانہ معاملہ نہیں نہ ہی یہ سعودی عرب اور ایران کی جنگ ہے، یہ اس اصول کی لڑائی ہے۔ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ دنیا میں بغاوت کہیں بھی ہو قابل مذمت ہوتی ہے ۔یمن میں بغاوت کرنے والے حوثیوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔ پیر سیف اللہ خالد نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ نے تحفظ حرمین شریفین کیلئے تحریک چلانے کا اعلان کیا ساری قوم ان کے ساتھ ہے۔ علاوہ ازیں حافظ آباد میں تحفظ حرمین شریفین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ غیر مسلم قوتیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یمن کو باغیوں کا گھر اور سعودی عرب کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ یہی اسلام دشمن قوتیں باغیوں کو اسلحہ اور دیگر سپورٹ فراہم کررہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر دشمنان اسلام کی ہرسازش کو ناکام بنا دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہودیوں اور صلیبیوں کی سازش کا توڑ صرف اور صرف جماعت الد عوۃ ہے۔ مزید براں قلعہ دیدار سنگھ میں کانفرنس پاسبان حرمین شریفین سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر حافظ سعید نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کے مسئلہ پر کبھی غیر جانبدار نہیں رہا۔ وطن عزیز پاکستان کو بھی برادر اسلامی ملک کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔ یمن میں کارروائی ان باغیوں کے خلاف کی جارہی ہے جنہوںنے ایک منتخب حکومت کو گرایا اور سعودی عرب کے خلاف خطرات کھڑے کئے ۔ اگر پاکستان میں ضرب عضب آپریشن کی حمایت کی جاتی ہے تو پھر حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کی حمایت کیوںنہیں کی جاتی؟ حرمین شریفین کا دفاع سعودی عرب کا دفاع ہے۔ انہوںنے کہاکہ مسئلہ کشمیر پاکستان کیلئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے۔