کیانی اور احمد مختار سے ملاقاتیں‘ نیٹو فورسز نے آئندہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تو جوابی اقدام کرینگے : وزیر دفاع

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + آن لائن + اے پی پی) سینیٹر مارک اوڈل کی قیادت میں امریکی ارکان کانگرس نے وزیر دفاع چودھری احمد مختار اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ امریکی وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع چودھری احمد مختار نے کہا کہ پاکستان پر امن اور مستحکم افغانستان کا خواہشمند ہے‘ ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشکلات کا باعث بن رہے ہیں‘ پاکستان کی سالمیت کو ہر صورت عزیز رکھیں گے۔ ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ پاکستان کی قربانیاں‘ نیٹو فورسز کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر دفاع نے نیٹو فورسز کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر حکومت کے سخت تحفظات اور موقف کے حوالے سے امریکی وفد کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مستقبل میں نیٹو فورسز کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان کوئی بھی جوابی کارروائی کا پورا حق رکھے گا‘ اس معاملے پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام چاہتا ہے‘ پاکستان نے افغان نیشنل آرمی سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تربیت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے‘ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس وقت سب سے اہم کردار ادا کر رہا ہے اس جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی‘ انہوں نے امریکی وفد پر زور دیا کہ قبائلی علاقوں میں تعمیر نو مواقع زونز کے لئے عملی طور پر اقدامات کئے جائیں۔ امریکی وفد نے نیٹو فورسز کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کے معاملے پر معذرت کرتے ہوئے وزیر دفاع کو یقین دہانی کرائی کہ مستقبل میں ایسا اقدام دہرایا نہیں جائے گا۔ مشترکہ میکنزم کو بھی وسعت دی جائے گی۔ امریکی سینیٹر مارک اوڈل اور سینیٹر شیلڈن وائٹ ہا¶س نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی ملاقات کی۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق دونوں سینیٹر کچھ دیر آرمی چیف کے ساتھ رہے اور ان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا‘ عسکری ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان امریکہ سٹرٹیجک تعلقات دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں تعاون‘ علاقائی صورتحال‘ افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی و فوجی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی سینیٹروں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی عوام اور مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہا اور اعتراف کیا کہ پاکستان کے بغیر دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ انہوں نے حالیہ سیلاب میں ہونے والے بھاری جانی و مالی نقصان پر اظہار ہمدردی کیا اور امریکہ کی طرف سے حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں آرمی چیف کا آئندہ دورہ امریکہ بھی زیر غور آیا۔ ذرائع کے مطابق آرمی چیف نے امریکی ڈرون حملوں کے نقصانات اور قبائلی علاقوں میں معاشی ترقی کے زون جلد قائم کرنے کے حوالے سے اپنے موقف سے آگاہ کیا۔ ملاقات میں دوطرفہ دفاعی و فوجی تعاون بڑھانے پر بھی بات کی گئی۔
امریکی ارکان کانگرس / وزیر دفاع