شہباز شریف کی ترک وزیراعظم سے ون ٹو ون ملاقات‘ دونوں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں

لاہور (پ ر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان سے ون ٹو ون ملاقات کی۔ انہوں نے حالیہ سیلاب کے بعد ترک حکومت اور عوام کی جانب سے متاثرین کی امداد پر ترک وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 2005ءکے زلزلے کی طرح ترکی نے اس مرتبہ بھی پاکستانی عوام سے اپنی محبت کا حق ادا کر دیاہے۔انہوں نے متاثرین کی بحالی میں ترکی کے شاندارکردار پر مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نواز شریف کی طرف سے بھی ترکی کے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعلیٰ نے مہمان وزیراعظم کومتاثرین سیلاب کیلئے حکومت پنجاب کی طرف سے کی جانے والی مساعی سے بھی آگاہ کیا۔ طیب اردگان نے ان مساعی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت ترکی پنجاب سمیت پاکستان کے مختلف صوبوں میں سیلاب سے متاثرہونے والے افراد کی امداد اور بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ ترکی نے جنوبی پنجاب کے علاقے میں متاثرین کیلئے”پری فیبری کیٹڈ“ گھر فراہم کرنے کا خصوصی منصوبہ تیار کیا ہے۔ استنبول کے میئر عنقریب لاہور کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران پنجاب میں ترکی کے اشتراک سے مختلف ترقیاتی اور فلاحی پروگراموں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ وزیراعظم ترکی نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ترکی کے دورے کی دعوت دی۔ دریں اثناءوزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ ترک بھائیوں نے سیلاب کے موقع پر متاثرین کی خدمت کر کے اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ترکی پاکستان کا سچا اور قابل اعتماد دوست ہے اور یہاں کے عوام کی خوشی اور غم میں برابر کا شریک ہے۔ دوستی کے ان سچے جذبوں کے ذریعے اگر معاشی‘ تجارتی اور سرمایہ کاری کے میدان میں بھی تعلقات کو آگے بڑھایا جائے تو ترکی اور پاکستان دونوں ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ وہ سید یوسف رضا گیلانی اور رجب طیب اردگان کے ہمراہ ضلع مظفر گڑھ کے قصبے محمود کوٹ کے دورے کے موقع پر ترکش ریڈکریسنٹ کی طرف سے بنائے گئے پری فیبری کیٹڈ گھروں کی چابیاں سیلاب متاثرین کے حوالے کرنے کیلئے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ میاں شہبازشریف نے چین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوست پڑوسی ملک کی دوستی کے حوالے سے پاکستانی کہتے ہیں کہ یہ ہمالیہ سے زیادہ بلند اور سمندر سے زیادہ گہری ہے اور یہی الفاظ ترکی کی دوستی کے حوالے سے کہے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمود کوٹ میں ترکش ریڈکریسنٹ کی جانب سے قائم کی جانے والی بستی کا نام مولانا روم کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔ بعد ازاں ترکی کے وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ وہ میاں شہباز شریف کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان کیلئے ایسا منصوبہ تیار کرنا چاہتے ہیں جس کی یادوں کے نقوش ہمیشہ کیلئے زندہ رہیں اور پاک ترک دوستی کی یاد دلاتے رہیں۔ پاکستان اور ترکی سیاسی ‘ تجارتی ‘ اقتصادی توانائی اور زراعت کے شعبے میں اکٹھے کام کر سکتے ہیں۔ دریں اثناءشہبازشریف کی زیرصدارت ایڈوائزری کونسل کا اجلاس ہوا جس میں مختلف شعبوں کی ترقی‘ سرمایہ کاری کے فروغ‘ سیلاب متاثرین کی بحالی‘ ترقیاتی منصوبوں کے بارے ترجیحات اور دیگر امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
شہبازشریف