پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں سے 6500 موبائل فون برآمد‘ جیمز لگانے کی منظوری

لاہور (معین اظہر سے) پنجاب کی جیلوں سے دہشت گردوں، سنگین جرائم میں ملوث افراد، دیگر جرائم پیشہ افراد سے گزشتہ ڈیرھ سال کے دوران 6500 موبائل فون برآمد ہوئے ہوم سیکرٹری پنجاب اعظم سلیمان خان نے وزیراعلیٰ کو اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کیسوں میں گواہوں کو دھکمیاں دینے، گینگ چلانے، جیلوں پر دہشت گردی کے حملوں کی اطلاعات اور سنگین جرائم کے ماسٹر مائنڈ جیلوں سے احکامات کے لئے یہ موبائل استعمال کرتے ہیں اس لئے  11 جیلوں میں 33 کروڑ روپے کی لاگت سے وزارت ڈیفنس پروڈکشن کے ادارے نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکشن کارپوریشن سے جیمر خریدنے کی منظوری دی جائے جبکہ چھ پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے جیلوںمیں جیمرز کے لئے دی جانے والی پیشکش کو ٹیکنdکل کمیٹی نے مسترد کر دیا۔ جیلوں میں ہزاروں کی تعداد میں موبائل فون، موبائل سم اور چارجر برآمدمد ہونے کے باوجود محکمہ نے کسی کے خلاف کارmوائی نہیں کی جبکہ اب عوام کے ٹیکسوں کے پیسے سے 33 کروڑ روپے جیلوں میں جیمرز لگانے پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ محکمہ جیل خانہ جات کے مطابق 151 ڈسپلنری کیسز بنائے گئے جس میں ملازمین کو سزا ہو گئی ہے جبکہ اس وقت بھی جیل کے اندر موبائل لے جانے کا ریٹ 5 ہزار روپے ہے۔ ڈیڑھ سال میں 6 مرتبہ جیلوں میں آپریشن کیا گیا ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ تعداد میں موبائل فون برآمد ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے جیلوں میں یکم جنوری 2012 سے31 جولائی 2013 تک ہر ماہ جیلوں میں موبائل فون ریکور کرنے کے لئے آپریشن کئے گئے جس میں جیل کے باہر سے لوگوں کو ملوث کیا گیا۔ یکم جنوری 2012 کو پنجاب کی 32 جیلوں میں آپریشن شروع کیا گیا جس میں 1895 موبائل، 368 سمیں اور 348 چارجر قیدیوں سے برآمد ہوئے۔ اس کے بعد یکم جولائی کو ایک اور آپریشن کیا گیا جس میں قیدیوں سے 1979 موبائل، 209 سمیں  اور 148 چارجر برآمد ہوئے۔ یکم نومبر 2012 کو آپریشن شرو ع کیا گیا جس میں جیلوں سے 468 موبائل، 161 سمیں اور 170 چارجر برآمد ہوئے۔ یکم جنوری 2013 کو آپریشن کیا گیا تو جیلوں سے 1676 موبائل، 478 سمیں اور 466 چارجر برآمد ہوئے۔ اس کے بعد پھر یکم جولائی 2013 کو آپریشن کیا گیا تو اس میں 206 موبائل، 108 سمیں اور 74 چارجر برآمد ہوئے۔ اس کے بعد یکم اگست 2013 کو موبائل کے خلاف مہم شروع کی گئی تو اس میں 394 موبائل، 117 سمیں اور 131 چارجر برآمد ہوئے جبکہ لاہور ریجن میں کل 2586 موبائل جہاں سب سے زیادہ دہشت گردی کے قیدی ہیں 722 سمیں اور 604 چارجر برآمد ہوئے۔ فیصل آباد ریجن میں 141 سم اور 272 چارجر ملے ہیں۔ راولپنڈی ریجن میں 1109 موبائل ، 233 سم، اور 197 چارجر ملے۔ ملتان ریجن میں 1407 موبائل، 192 سمیں اور 342 چارجر ملے جس پر ہوم سیکرٹری پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کو سمری بھجوائی تھی کہ جیلوں میں موبائل فون برآمد سے سیکورٹی خدشات پیدا ہو گئے ہیں جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے بھی جیلوں میں موبائل فون کے استعمال کا ریفرنس بھجوایا ہے۔ ہوم سیکرٹری پنجاب نے لکھا ہے کہ جیلوں میں جیمر لگانے کے لئے چھ کمپنیوں نے اپنی پیشکش دی تھیں جن کو ٹیکنیکل کمیٹی نے چیک کیا  وہ کمپنیاں جیمر لگانے کا تجربہ نہیں رکھتی ہیں جس پر نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن نے سینٹرل جیل راولپنڈی میں جیمر لگائے تھے وہ بہتر کام کر رہے ہیں اس لئے 11 جیلوں میں 110 جیمرز لگیں گے جن پر 33 کروڑ 30 لاکھ لاگت آئے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ہوم سیکرٹری کی رپورٹ پر 11 جیلوں میں جامر کی منظوری دیتے ہوئے پیپرا ایکٹ سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے مذکورہ کمپنی سے ہی جیمر لینے کی منظوری دے دی ہے۔