خواتین پر تیزاب پھینکنے کیخلاف بل پیش کیا، اسمبلی سے چوری ہو گیا:فخر النسا کھوکھر

لاہور (اپنے نامہ نگار سے) قرآن پاک کے مطابق فیصلے کئے، میرے فیصلوں کو آج بھی بھارت اور بنگلہ دیش میں نظائر کے طور پر لکھا جاتا ہے۔ بینظیر سے میری بڑی دوستی تھی۔ ملتان میں پہلی خاتون وکیل میں تھی۔ ان خیالات کا اظہارحمید نظامیؒ پریس انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان میں ’’معاشرے میں عورت کا مقام، معاشی بااختیار کے معاملات‘‘ کے موضوع پر سیمینار میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) فخرالنسا کھوکھر نے کیا۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر نوشینہ سلیم ڈائریکٹر ادارہ علوم ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی تھیں۔ جسٹس فخرالنسا نے کہا کہ آج خواتین ہر شعبہ میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا استحصال ہر جگہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایک فیصلے میں ماتحت خاتون ملازم کی تنخواہ روکنے والے اس کے افسر کو معطل کر دیا تھا۔ انہوں نے اسمبلی میں ریونیو کورٹس کا بل بھی پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین پر تیزاب پھینکنے کے معاملے پر بھی انہوں نے اسمبلی میں بل پیش کیا۔ لیکن وہ بل چوری ہو گیا اسی بل پر بننے والی فلم کو آسکر ایوارڈ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی زمینوں کو ختم کر کے کالونیاں بنائی جا رہی ہیں۔ اس طرح ایک کلرک آج کھرب پتی بن گیا۔ زرعی زمینوں کو تباہ کرنے سے ملک میں غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایک عورت ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس نہ بنایا گیا۔ ورکنگ ویمن آرگنائزیشن کی ڈائریکٹر آئمہ محمود نے کہا کہ 20فیصد خواتین لیبر فورس کا حصہ ہیں۔ 12ملین خواتین گھروں میں مزدور کے طور کام کر رہی ہیں۔ ہر شعبہ میں خواتین نظر آ رہی ہیں۔ صرف کام کرنے سے، پیسے کمانے سے خود مختاری نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو فیصلہ سازی کی اجازت ہونا چاہئے۔ سینئر صحافی، تجزیہ کار ڈاکٹر راشدہ قریشی نے کہا کہ ہمارا پورا ملک خود مختار نہیں ہو سکا تو خواتین کیسے ہو سکتی ہیں۔ عورت کے حقوق کو تسلیم کرنے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک عورت ہی عورت کا استحصال کر رہی ہے۔ درانی، جٹھانی یا ساس یا سوکن کے روپ میں، ڈاکٹر نوشینہ سلیم نے کہا کہ خواتین کے حقوق کی تو بہت باتیں ہوتی ہیں۔ ملالہ کے واقعہ کو کسی طرح پیش کیا جا رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ میڈیا بھی خواتین کے حقوق کی بات نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ برداشت عورتوں اور دونوں طرف سے ہونی چاہئے۔ قبل ازیں سیمینار کے آغاز میں ڈاکٹر فوزیہ سعید نے تلاوت کلام پاک کی۔ سیمینار کے ڈائریکٹر ابصار عبدالعلی تھے انہوں نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کی تمام قومیں عورت مخالف امتیازی قوانین نہ بنائیں۔ ہزاروں برس پہلے فرعونوں کے سلسلہ بادشاہت میں ایک بار ایک عورت بھی بادشاہ بنی۔ لیکن وہ اختیارات کو عمل کی طاقت دینے کے لئے جب دربار میں آتی تھی تو مردوں کی طرح داڑھی مونچھ لگا کر آتی تھی۔ افسوس عورت اگر ہزاروں برس پہلے اس موقع سے فائدہ اٹھاتی اور اسی وقت ایسے قوانین بنا لیتی جو عورتوں کو کم تر قرار نہ دیتے تو آج حالات شاید مختلف ہوتے۔ 1400برس پہلے حضرت محمد مصطفی کے عہد رسالت میں قرآن نے عورت کو انقلابی حقوق دیے۔ اسلام نے باپ کی وراثت میں بیٹی کو بھی حق دار بنایا۔ آج اکثر بیٹیاں اپنے اس اسلامی حق سے غیراسلامی رسم و رواج پر چلتے ہوئے باپ کی وراثت میں اپنے حصہ سے بھائی کے حق میں دست بردار ہو جاتی ہیں۔ اس پر کتنی عورتیں آواز اٹھاتی ہیں؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔