پنجاب اسمبلی : وزیراعلی اور وزیر قانون نے اپوزیشن کے اعداد و شمار کو چینلج کر دیا‘ سرائیکیصوبے پر تخت لاہور کو عقل آئیگی : راجہ ریاض

لاہور (سپیشل رپورٹر + کامرس رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی طرف سے بجٹ پر بحث شروع کی گئی تو وزیر قانون نے بار بار کھڑے ہو کر ان کے پیش کردہ اعداد و شمار کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ ایک مرحلے پر وزیراعلی نے بھی اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران وزیراعلی سیکرٹریٹ کے اخراجات کے اعداد و شمار کو چیلنج کیا۔ راجہ ریاض نے کہا کہ سرائیکی صوبہ بننے پر تخت لاہور کو عقل آ جائیگی۔ بجٹ شرمناک اور باعث ندامت ہے۔ شہباز شریف ناکام ہو گئے۔ نواز شریف کو وزیراعلی پنجاب بنا دیا جائے۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر غلط اعداد و شمار پیش کرکے بونگیاں مار رہے ہیں۔ ق لیگ کی ثمینہ خاور حیات نے کہا کہ پنجاب حکومت نے بجٹ کو الیکشن مہم بنا دیا۔ اجلاس میں صدر کے والد حاکم علی زرداری کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ اجلاس آج تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق راجہ ریاض نے پہلا اعتراض لگایا کہ جن افسران نے بجٹ بنایا ہے وہ اسمبلی میں موجود نہیں ہیں سیکرٹری خزانہ ، چیئرمین پی اینڈ ڈی کہاں ہیں میں اپنی تجاویز کس کو پیش کروں جس پر رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آنا چاہیے کیونکہ وہ اپنی بات ہاﺅس کو بتانے کی بجائے افسروں کو سنانا چاہ رہے ہیں۔ راجہ ریاض نے کہا کہ اگروزیر قانون کی کوئی افسر بات نہیں مانتا تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ میں تو یہ چاہتا تھا کہ جنہوں نے بجٹ بنایا ہے ان کے سامنے بات کروں یہ تو تین ماہ میں چار بار وزیر خزانہ کا چارج تبدیل کر چکے ہیں۔ راجہ ریاض نے کہا کہ 19 ارب 36 لاکھ روپے ترقیاتی کاموں کے لئے رکھے گئے تھے جس پر وزیر قانون ایک مرتبہ پھر کھڑے ہوگئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو پتہ ہی نہیں ہے یہ غلط اعداد شمار پیش کر رہے ہیں یہ تو یہاں پر بونگیاں مار رہے ہیں۔ جس پر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ رانا ثناءاللہ جو بونگیاں مار رہے ہیں وہ پیپلز پارٹی سے ہی سیکھ کر گئے ہیں۔ راجہ ریاض نے کہا 2009-10 میں وزیر اعلی سیکرٹریٹ کے لئے 19 کروڑ رکھے تھے خرچ 26 کروڑ روپے ہوئے جس پر وزیراعلی نے کہا کہ 26 کروڑ رکھے تھے یہ غلط اعداد وشمار دے رہے ہیں۔ راجہ ریاض نے کہا کہ اربوں روپے غریبوں پر خرچ کرنیکی بجائے لوٹا فاﺅنڈری بنانے پر خرچ کر دئیے گئے۔ ایک دانش سکول پر کروڑوں خرچ کئے جا رہے ہیں‘ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ راجہ ریاض کی تقریر لکھنے والے کو جوتے مارنے چاہئیں۔ حکومتی رکن عادل حسین کی جانب سے تحریک استحقاق جس میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر نے ان کو کہا کہ وزیر اعلی سے باردانہ خریدنے کی اجازت لے کر آئیں پر اپوزیشن اراکین نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن کی طرف سے سیمل کامران اور عامر سلطان چیمہ کی طرف سے ان کی تحریک استحقاق کے جوابات نہ آنے پر انہوں نے کہا کہ محکمے اسمبلی کی کارروائی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں۔ ڈاکٹر اسد معظم نے کہا کہ حکومت کے بجٹ کی سمجھ نہیں آئی۔ خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ حکومت نے عوامی بجٹ پیش کیا ہے۔
پنجاب اسمبلی