نشتر کالونی مقابلہ جعلی تھا‘ ڈی آئی جی کی رپورٹ....ڈی ایس پی کاہنہ ریاست جاوید سمیت سات پولیس افسر اور اہلکار گرفتار

لاہور (نامہ نگار+ اپنے نامہ نگار سے) ڈی آئی جی میجر (ر) مبشر اللہ خان نے تھانہ نشتر کالونی کے علاقے میں پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیکر رپورٹ آئی جی پنجاب کو رپورٹ پیش کر دی ہے جس کے بعد ڈی ایس پی کاہنہ سرکل ریاست جاوید باجوہ سمیت 7 پولیس افسروں اور اہلکاروں کو قتل کا مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ادھر پوسٹمارٹم کی رپورٹ میں بھی ثابت ہو گیا ہے کہ شہباز بٹ کو 3 سے 5 فٹ تک کے فاصلے سے 10گولیاں ماری گئی ہیں تاہم تشدد کے قابل ذکر شواہد نہیں ملے۔ آئی جی کو رپورٹ پیش کرنے کے بعد پریس کانفرنس میں ڈی آئی جی مبشر اللہ نے کہاکہ شہباز بٹ کو جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔ شہباز بٹ ڈاکو تھا تاہم پولیس نے گرفتار کرنے کے بعد ہلاک کرکے اختیارات سے تجاوز کیا۔ انہوں نے کہا میڈیکل سٹور پر واردات کے بعد تین مسلح ڈاکو بھاگنے لگے تو دکاندار نے شہباز بٹ کو پکڑ لیا اور موقع پر پہنچنے والے سب انسپکٹر ریاض سمیت 4 اہلکاروں کے حوالے کیا جنہوں نے اسے سرکاری گاڑی میں کچھ دور لے جاکر کھیتوں میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ یہ مکمل جعلی پولیس مقابلہ ہے۔ شہباز بٹ ڈاکو تھا مگر اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ اس کے 2 ساتھی نعیم اور عامر کوریا مفرور ہیں۔ عامر کوریا کے خلاف ڈکیتی کے 15مقدمات درج ہیں اور وہ حال ہی میں جیل سے رہا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری انکوائری میں تمام پولیس والے گناہ گار ہیں۔ سوائے ایف آئی آر کے پولیس کی تمام سٹوری بوگس ہے۔ ڈی ایس پی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، انہیں بری ذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پولیس نے اپنے بچاﺅ کے لئے من گھڑت کہانی بنائی۔ واضح رہے کہ گرفتار اہلکاروں میں سب انسپکٹر ریاض، دو کانسٹیبل عبدالقادر اور آصف بھی شامل ہیں۔ ایس ایچ او انسپکٹر شیخ نوید اکمل اور انچارج انویسٹی گیشن ذوالفقار علی سمیت 9 پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی تفتیش ہو گی کیونکہ ان پر بھی بالواسطہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ادھر سیشن جج لاہور مجاہد مستقیم نے شہباز بٹ کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ انکوائری افسر جوڈیشل مجسٹریٹ ماڈل ٹاﺅن کنور انور علی ہونگے۔
پولیس افسر گرفتار