ملک کو جدید اسلامی‘ فلاحی‘ جمہوری پاکستان بنانے کیلئے سردار عبدالرب نشتر جیسے افراد کی ضرورت ہے : مجید نظامی

لاہور (خبرنگار خصوصی) آج ہماری سیاسی جماعتیں قائداعظمؒ اور مشاہیر تحریک پاکستان کا راستہ اپنا کر پاکستان کو ایک جدید اسلامی‘ فلاحی جمہوری ریاست بنا سکتی ہیں لیکن اس کیلئے سردار عبدالرب نشترؒ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ سردار عبدالرب نشترؒ عوامی آدمی تھے ۔ انہوں نے بطور گور نرپنجاب اوربحیثیت وزیر اور صدر پاکستان مسلم لیگ انتہائی سادہ زندگی بسرکی۔ ان خیالات کا اظہار تحریک ِپاکستان کے کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان لاہور میں تحریک پاکستان کے عظیم رہنما سردار عبدالرب نشترؒکے112ویں یوم ولادت کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا جس کا اہتمام نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ سردار عبدالرب نشتر ؒ (مرحوم)کے پوتے محمد غالب نشتر‘ کارکنان تحریک پاکستان سمیت طلباءو طالبات ‘اساتذہ¿ کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک‘نعت رسول مقبول سے ہوا۔ قاری امجد علی نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی ‘ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہ رسالت مآب میں نذرانہ¿ عقیدت پیش کیا جبکہ سرور حسین نقشبندی نے خوبصورت انداز میں کلامِ نشتر ؒ پیش کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض شاہد رشید نے انجام دیئے۔ مجید نظامی نے کہا نشتر فیملی سے میرا ذاتی تعلق ہے اور سردار عبدالرب نشترؒ کے صاحبزادے جمیل نشتر میرے واقف کار تھے ۔ سردار عبدالرب نشترؒ گورنر پنجاب تھے تو اس وقت میں طالب علم تھا‘ میں نے جمیل نشتر کو گورنر ہاﺅس سے ایف سی کالج سائیکل پر جاتے کئی مرتبہ دیکھا۔ اس کے مقابلے میں آج گورنر تو دور کی بات کوئی وزیر، مشیر کا صاحبزادہ بھی دوچار سکواڈ کے ساتھ گھر سے باہر نکلتا ہے۔ سردار عبدالرب نشترؒ عوامی گورنر تھے‘ وہ گورنر ہاﺅس سے نکل کر ریگل چوک تک فٹ پاتھ پر واک کیا کرتے تھے۔ میں بھی باقاعدگی سے واک کیا کرتا تھا اور میں نے بلامبالغہ سینکڑوں مرتبہ انہیں واک کرتے دیکھا‘ اس دوران وہ تنہا ہوتے اور ان کے ساتھ کوئی سکیورٹی اہلکار نہیں ہوتے تھے۔ وہ ایک عوامی آدمی تھے۔ آج بھی ان کی تقاریر پڑھیں تو ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے وہ آج کے پاکستان کی بات کر رہے ہوں‘ یعنی گذشتہ 60سال سے پاکستان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔آج سیاسی جماعتیں آپس میں لڑ رہی ہیں جبکہ بیوروکریسی کا رویہ بھی نامناسب ہے۔ اگر ہماری سیاسی جماعتیں قائداعظمؒ اور مشاہیر تحریک پاکستان کا راستہ اپنائیں تو پاکستان کو ایک جدید اسلامی ‘فلاحی جمہوری پاکستان بنایا جا سکتا ہے لیکن اس کیلئے نشترؒ صاحب جیسے افراد کی ضرورت ہے ‘ کرپشن ان کے قریب سے بھی نہیں گزری تھی۔اس کے مقابلے میں آج کرپشن کا دور دورہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا کریں ملک نشترؒ صاحب کا پاکستان بن جائے اور وہ دور واپس آجائے۔ سردار عبدالرب نشترؒصرف پٹھان ہی نہیں بلکہ افغان بھی تھے کیونکہ ان کے آبا و اجداد افغانستان سے تشریف لائے تھے ‘ سردار عبدالرب نشترؒ کے پوتے محمد غالب نشتر بینکرہیں‘ اگر غالب نشتر سیاست میں ہوتے تو افغانستان جا کر حامد کرزئی کو قائل کرتے وہ بھارت کے ایجنٹ نہ بنیں اور نہ بھارتی شردھالوﺅں کو وہاں سے آکر یہاں حملے کرنے کی اجازت دیں۔ مجید نظامی نے اپنی تقریر کا اختتام پاکستان‘ قائداعظمؒ‘ علامہ اقبالؒ‘مادرملتؒ اور سردار عبدالرب نشتر ‘زندہ باد کے نعروں سے کیا ۔سردار عبدالرب نشترؒ (مرحوم)کے پوتے محمد غالب نشتر نے کہا نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ دوقومی نظریہ کے فروغ‘ تحریک پاکستان کے اصل مقاصد اور مشاہیر تحریک پاکستان کے افکار وخیالات کو عام کرنے کیلئے جو کام کر رہا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ سردار عبدالرب نشترؒ نے انتہائی بھرپور زندگی گذاری اور ان کی ساری جدوجہد کا مرکز قیامِ پاکستان اور استحکام پاکستان تھا لیکن آج ہم ان کے ورثہ کی موجودہ حالت دیکھتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال سے نکلنے کیلئے ہمیں اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑے گا۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا سردار عبدالرب نشترؒ ایک عوامی رہنما تھے اور ان کا انداز جمہوری اور غریبانہ تھا جبکہ آج کل ہمارے رہنماﺅں میں عوامی انداز والی کوئی بات نہیں۔ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن سید احمد سعید کرمانی نے کہا سردار عبدالرب نشترؒ ایک محب وطن ‘بے غرض انسان جبکہ اسلام اور پاکستان کے شیدائی تھے ۔آپ کی کاوشوں سے ہی خیبر پی کے میں مسلم لیگ مقبول اور کامیاب ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی نے کہا سردار عبدالرب نشترؒ ایک عظیم انسان اور قائد اعظم ؒ سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ انہوں نے ساری زندگی اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ قبل ازیں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے کہا ہم باقاعدگی سے مشاہیر تحریک پاکستان کی یاد مناتے ہیں۔ سردارعبدالرب نشترؒ کے افکار وخیالات دراصل قائداعظمؒکے ہی افکاروخیالات تھے ‘ آج ہم ان افکارو خیالات سے رہنمائی حاصل کر کے موجودہ بحرانوں سے نکل سکتے ہیں ۔تقریب کا اختتام قومی ترانہ سے ہوا۔
مجید نظامی