حالات تباہی کے دہانے پر ہیں‘ جمہوری سسٹم مزید نہیں چل سکتا : شیخ رشید

لاہور (سلمان غنی سے) سابق وفاقی وزیر، عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید نے کہا ہے کہ حالات تباہی کے دہانے پر ہیں۔ جمہوری سسٹم مزید نہیں چل سکتا۔ پیپلز پارٹی امریکی منصوبوں کی تکمیل پر اور نواز شریف فوج کی تذلیل کے ایجنڈا پر گامزن ہیں۔ لوگوں نے اس سسٹم کے باعث دھکے کھائے اور حکمرانوں کی عیاشیاں بڑھیں۔ آئندہ الیکشن میں ن لیگ کی سیٹیں مزید کم ہوں گی اور تیسرا ایک بڑا بلاک وجود میں آئے گا۔ یہ بلاک دونوں پارٹیوں سے نفرت کی بنیاد پر جمع ہو گا۔ مسلم لیگیں اکٹھی ہو جائیں تو آج ملک میں ایسی تباہی نہ ہوتی۔ نواز شریف کی ضد نے ملک کو تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا۔ مسلم لیگ کے اتحاد کی گاڑی چھوٹ گئی ہے۔ نواز شریف فوج کی تذلیل اور شہباز شریف جنرل کیانی سے رابطے میں ہیں۔ دونوں کی پالیسی میں واضح فرق ہے۔ عوام کو جمہوریت سے کچھ نہیں ملا، جمہوریت شو بزنس والوں کے پاس چلی گئی۔ وہ گزشتہ روز نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کر رہے تھے۔ قبل ازیں انہوں نے نوائے وقت گروپ کے ایم ڈی مجید نظامی سے ملاقات کی اور انہیں ملک، قوم، جمہوری سسٹم کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ حالات، واقعات اور رجحانات بتا رہے ہیں کہ ملک صحیح ڈگر پر نہیں جا رہا۔ جس پر مجید نظامی نے کہا کہ آئین، قانون کی بالادستی اور جمہوری سسٹم کے استحکام میں ہی پاکستان کی بقا و سلامتی کا راز مضمر ہے اور آج کے حالات میں صرف پاکستان کا ایجنڈا ہی ہمارے سارے مسائل کا حل بن سکتا ہے۔ سب کو ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے پاکستان کی فکر کرنی چاہئے۔ پاکستان کے ساتھ ہی سیاست، حکومتیں اور سب کچھ مشروط ہے۔ بعد ازاں نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے ق لیگ پیپلز پارٹی کے اتحاد کے حوالے سے کہا کہ چودھریوں نے جلدی کی۔ ہمارا خیال تھا کہ ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ مسلم لیگ کے فائدے میں ہو۔ ملکی سیاست کا فیصلہ آئندہ دو تین ماہ میں ہو جانا ہے پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اپنے سلسلہ کو آئندہ سینٹ کے انتخابات تک لے جائے اور سینٹ پر قبضہ کے بعد ازخود انتخابی میدان میں داخل ہو۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ملک کے اندر فوج کمزور ہوئی تو رائیونڈ کے ملازم رائیونڈ محل پر قبضہ کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا رجحان کیماڑی سے خیبر تک جاری ہے بدقسمتی سے پاکستان میں تعینات ہونے والے سفیروں اور پاکستان میں آنے والے صحافیوں سب کا تعلق خفیہ ایجنسیوں سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا ملکی سیاست میں کوئی کردار نہیں رہا اسے دیوار سے نہ لگائیں ورنہ حوصلہ ہار بیٹھے گی جس کے اثرات قومی سلامتی پر ظاہر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حالات نے ثابت کیا ہے کہ قومی اور سویلین ڈکٹیٹر شپ میں فرق نہیں، نواز شریف خود اپنی جماعت میں جمہوریت بحال نہیںکراتے، دو سال سے پارٹی بغیر عہدیداوں کے چل رہی ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ امریکی مداخلت خوفناک حد تک بڑھنے والی ہے۔ ہمارے بعض سیاستدان بھارتی سفیر کے ذریعے امریکہ سے رابطے میں ہیں۔
شیخ رشید