”بابر اعوان کااستعفیٰ‘ بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی تقسیم کرنے کا کفارہ ہے“

لاہور + اسلام آباد (خصوصی نامہ نگار + ریڈیو نیوز + وقت نیوز + ایجنسیاں) دینی و سیاسی رہنماﺅں اور قانونی ماہرین نے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان کے استعفے کو تاریخی اور مکافات عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے استعفی دے کر بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی تقسیم کرنے کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔ بھٹو کیس ری اوپن ہو گا تو ایک نہیں ملک توڑنے سمیت کئی پنڈورابکس کھلیں گے۔ بھٹو کیس ری اوپن کرنے سے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور انتشار پھلانے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئیگا۔ بھٹو کیس میں ایسے شخص کو وکیل مقرر کرنا جس نے بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں بانٹیں اور خوشیاں منائی ہوں بھٹو کی قبر کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن‘ جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد اور سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے اپنے ردعمل میں کیا ہے۔ حافظ حسین احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بابر اعوان کے اس اقدام کو دیگر رہنماﺅں کے لئے قابل تقلید سمجھتے ہیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے سانحہ میں ملوث تعاون کرنے والوں کو بھی عنقریب کفارہ ادا کرنا ہوگا، سید منور حسن نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس ری اوپن کرنے کی باتیں کرنے والے بھٹو کے ساتھ نہیں تھے۔ مرکزی مجلس عاملہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو سندھ حکومت سے الگ کئے بغیر کراچی میں امن قائم نہیں ہو سکتا‘ ایم کیو ایم نے اپنے قیام سے اب تک پنجاب اور بلوچستان کو نعشوں ہی کا تحفہ دیا ہے۔ پیپلز پارٹی میں نظر آنے والے نثار کھوڑو اور بابر اعوان سمیت نامی گرامی سب بھٹو کی پھانسی کے حامی تھے اور پھانسی پر خوشی کے شادیانے بجانے والے تھے۔ انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو جانتے ہیں لیکن انکشاف نہیں کرتے‘ اس راز سے پیپلز پارٹی ہی پردہ اٹھا سکتی ہے۔ سی آئی اے کے ہزاروں ایجنٹ ملکی سلامتی اور خودمختاری سے کھیل رہے ہیں۔ سابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس (ر) وجہیہ الدین احمد نے کہا ہے کہ آرٹیکل 186 کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کا کیس نہیں کھولا جا سکتا۔ حکومت کا مقصد بھٹو کیس کھولنا نہیں بلکہ بہت سا دھواں اور دھول اڑا کر اپنے سیاہ کارناموں کو چھپانا ہے تاکہ عوام کو بیوقوف بنایا جا سکے۔
کفارہ ادا