سکولوں‘ ہسپتالوں کا حال نااہلی کا ثبوت‘ دو نمبر کام کرنیوالوں کے ہاتھ چومے جاتے ہیں: عدالت عالیہ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے ڈی ایچ اے سٹی سکینڈل کے مرکزی ملزم کی درخواست ضمانت میں اس قانونی نکتہ پر نیب سے معاونت مانگ لی کہ کیا ریفرنس عدالت میں دائر ہونے کے بعد کسی ملزم کو گرفتار کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ روس نا اہل لوگوں کی وجہ سے تباہ ہوا۔ ملک میں انصاف کرنے پر روزانہ عدالتوں کو گالیاں دی جارہی ہیں دیانتدار افسروں کو کھڈے لائن اور نااہل افراد کو اعلی عہدوں پر لگایا جاتا ہے۔ عدالت نے یہ ریمارکس ڈی ایچ اے سٹی سکینڈل کے مرکزی ملزم حماد ارشد کی درخواست ضمانت کی سماعت میں دیئے۔ ملزم کے وکیل نے موقف اختیارکیاکہ حماد ارشد کیخلاف جھوٹے الزامات پر بے بنیاد کارروائی کی جارہی ہے، ملزم کے وکیل نے نیب کے اختیارات پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نیب ریفرنس دائر ہونے کے بعد چھوٹے ملزم کو تو گرفتار کر لیا جاتا ہے مگر بڑے بڑے ملزموں کو نیب ہاتھ بھی نہیں لگاتا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ جہاں اعلی عدلیہ کے بارے میں نامناسب زبان استعمال ہو اس ملک میں باقی کیا رہ جاتا ہے۔ سکولوں اور ہسپتالوں کا حال نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کہ وجہ سے نابینا افراد بھی سڑکوں پر ہیں۔ جنوبی پنجاب میں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں جہاں انسان اور جانور ایک ساتھ پانی پیتے ہیں۔ ملک میں ہر طرف کرپشن کا بازار گرم ہے صاف پانی کمپنیوں میں بلٹ پروف گاڑیاں خریدی گئیں۔ حالت یہ ہے کہ 8 ارب کے پراجیکٹ میں بھرتیوں کے انٹرویو دبئی میں ہوتے ہیں۔ ملک میں اخلاقیات کا یہ عالم ہے، لوگ ایک نمبر کام کے بھی پیسے لیتے ہیں جبکہ دو نمبر کام کرنے والوں کے ہاتھ چومے جاتے ہیں۔ عدالت نے معاملے پر نیب سے معاونت طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 25 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔