مناظرہ: اشرف جلالی کارکنوں سمیت گرفتار: ہمارا وفد پولیس نے پکڑ لیا، ترجمان ساجد میر

لاہور(خصوصی نامہ نگار) تحریک صراط مستقیم کے سربراہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کو درجنوں کارکنوں سمیت پریس کلب کے باہر مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر سے مناظرے کیلئے پہنچنے پر پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جبکہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر یا انکا کوئی نمائندہ مقررہ وقت شام پانچ بجے تک مناظرے کیلئے نہ پہنچ سکا۔ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے چیلنج کو قبول کیا تھا وہ حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر ان سے مناظرہ کرلیں۔ پروفیسر ساجد ساجد میر نے موقف اختیار کیا تھا کہ لفظوں کے مطلب میں قطعاً کسی طرح کا کوئی فرق نہیں ہے اور جس کو اس بات کی سمجھ نہیں آسکی میں اسے سمجھانے، بات کرنے یا مناظرہ کرنے کیلئے بھی تیار ہوں۔ دونوں رہنمائوں کی طرف سے ایک ہفتے تک بیان بازی کے بعد بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اعلیٰ پولیس افسروں کی طرف سے دونوں سے رابطہ کرکے انہیں مناظرے سے روکنے کی پوری کوشش کی گئی اور طرفین نے انتظامیہ کو یقین دلایا کہ وہ ان سے تعاون کریں گے تاہم صبح سویرے ہی پولیس کی بھاری نفری مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مرکزی دفتر اور ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کی رہائش گاہ اور مرکز صراط مستقیم تاج باغ تعینات کردی گئی اور دونوں ہی رہنمائوں کے سپورٹرز دن بھر مرکز راوی روڈ اور دوسری طرف تاج باغ جمع ہوتے رہے جبکہ بعض کارکن پریس کلب کے باہر جمع ہونے کی کوشش میں پولیس کے ہتھے چڑھتے رہے۔ حالات کی حساسیت کا اندازہ لگاتے ہوئے بدھ کے روز ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دفعہ 144نافذ کردی گئی۔ تحریک صراط مستقیم کے سربراہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی درجنوںکارکنوں کیساتھ پولیس کو چکمہ دیکر پریس کلب پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں انہوں نے مختصر خطاب کیا۔ ڈاکٹر جلالی کے خطاب کے دوران ان کے کارکن لبیک یا رسول اللہ ؐ کے نعرے لگاتے رہے، اس موقع پر پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جس پر کارکنوں نے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کے گرد حصار بنالیا تاہم ڈاکٹر جلالی نے کارکنوں کو ہدایت کی ہم نے کوئی جھگڑا نہیں کرنا جس کے بعد پولیس انہیں گرفتار کر لے گئی۔ دوسری طرف مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ترجمان حافظ بابر فاروق رحیمی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایس پی شفیق آباد اعجاز ڈھلوں نے مناظرے کیلئے جانیوالے مرکزی جمعیت اہلحدیث کے وفد کو مذاکرات کے بہانے بلایا پھر انہیں حراست میں لے کر تھانے میں بند کردیا ہے۔ ترجمان کے مطابق حکومت نے اس مناظرے پر پابندی لگاکرڈاکٹر اشرف آصف جلالی کوراہ فرار کا موقع فراہم کیاہے۔گرفتاری سے قبل اشرف آصف جلالی نے کہا ہے کہ میں مناظرے کے لیے پہنچ گیا۔ پروفیسر ساجد میر کے دلائل نہیں تھے۔ انہوں نے راہ فرار اختیار کی ہے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ نے قادیانیوں کی حمایت میں جو باتیں کی ہیں ان پر واجب ہو گیا ہے کہ تجدید ایمان کریں اور توبہ کرتے ہوئے دوبارہ کلمہ طیبہ پڑھیں۔ ادھر جمعیت علماء پاکستان کے مختلف دھڑوں نے ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے کہ جے یو پی (زوار) کے سربراہ قاری زوار بہادر اور جے یو پی نورانی کے مرکزی رہنما علامہ محمد لغاری نے کہا کہ پولیس کی کارروائی افسوسناک ہے۔سنی ایکشن کمیٹی کے سربراہ قاضی مظفر اقبال رضوی نے ڈاکٹر اشرف جلالی کی گرفتاری کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ علماء کرام کی گرفتاری ملک میں فتنہ کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا وزیر قانون راناثناء اللہ محتاط زبان استعمال کریں۔