لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز کی شدید قلت‘ ایک بستر پر دو مریضوں کا رواج

لاہور (نیوز رپورٹر) لاہور کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں بیڈز کی شدید قلت کے باعث ایک بیڈ پر دو مریض ڈالنے کی روش تبدیل نہ ہو سکی۔ وزیر صحت اور سیکرٹری صحت پنجاب کے اقدامات پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ لاہور میں گنگا رام‘ جنرل‘ سروسز‘ پی آئی سی‘ جناح، چلڈرن اور میو ہسپتال میں تمام وارڈز میں اضافی بیڈز موجود نہ ہونے سے تمام وارڈز میں ایک مریض کی بجائے دو دو مریض لٹانے کا رواج بڑھ گیا۔ جناح ہسپتال‘ سروسز ہسپتال کی گائنی یونٹ میں ایک بیڈ پر دو مریض لٹائے جا رہے ہیں۔ میوہسپتال میں ہڈی‘ ٹی بی چیسٹ وارڈ‘ سرجری وارڈز میں بیڈز کی شدید قلت ہے۔ گنگا رام ہسپتال میں مثانہ پتہ وارڈ‘ میڈی سن وارڈ سمیت دیگر میں بیڈز دستیاب نہیں۔ سروسز ہسپتال میں تمام شعبوں میں بیڈز کی قلت مریض کو داخل کرنے کی بجائے کئی کئی ہفتوں کا وقت دیا جانے لگا۔ جنرل ہسپتال کی انتظامیہ اپنی کارکردگی کاغذوں میں دکھانے لگی۔ دماغی چوٹ کے مریضوں کا سٹریچر اور وہیل چیئر پر علاج ہونے لگا۔ وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری صحت پنجاب نجم شاہ نے کچھ عرصہ قبل ہسپتالوں میں بیڈز کی ڈبلنگ ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے مگر اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ سرکاری ہسپتالوں میں بیڈز کی قلت ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔ مریضوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر کے مریضوں کیلئے ڈیڑھ دو لاکھ بیڈز کی ضرورت ہے۔ جس کو فوری طور پر حل نہیں کیا جا سکتا۔ ہم پرائیویٹ ہسپتالوں سے بیڈز کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلے اقدامات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں گلاب دیوی ہسپتال میں 250بیڈز کی گنجائش بنائی گئی ہے۔ پی آئی سی 100بیڈز کا اضافہ ہوا۔ سروسز ہسپتال کا آؤٹ ڈور فنکشنل کر دیا گیا ہے۔ میوہسپتال کا سرجیکل وارڈ میں 400کے قریب بیڈز ہیں جو اسی برس دستیاب ہونگے۔ جناح ہسپتال برن یونٹ مکمل فنکشنل ہے۔ دوسری طرف لاہور میں میو‘ جناح‘ گنگا رام ہسپتال کی لفٹیں کئی کئی ماہ سے خراب ہیں۔ گنگا رام ہسپتال میں دل کے مریضوں اور ڈائیلسز کے مریض لفٹ کی بجائے سیڑھیوں سے دوسری‘ تیسری منزل پر جا رہے ہیں۔ گنگارام ہسپتال میں یہ لفٹ کئی ماہ سے خراب ہے جس کی طرف انتظامیہ نے توجہ نہیں دی۔