چھانگا مانگا جنگل کیلئے بائونڈری وال کی تعمیر میں کروڑوں کے گھپلوں کا انکشاف

لاہور (نمائندہ سپورٹس) وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی خصوصی کاوشوں سے چھانگا مانگا جنگل میں تعمیر ہونے والی بائونڈری وال کی تعمیر میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف، لکڑی چوری کا دھندہ بھی عروج پر پہنچ گیا۔ انتہائی ناقص میٹریل سے تیار کردہ ستون استعمال کئے جا رہے ہیں۔ عرصہ دراز سے انتقال کر جانے والے بیلداروں کے نام آج بھی میسٹرول میں ڈال کر لاکھوں روپے ماہانہ بلوں کی وصولی جاری۔ تفصیلات کے مطابق چھانگا مانگا کے تاریخی جنگل کی بائونڈری وال کی تعمیر کیلئے حکومت نے 22 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے لیکن اس رقم کے استعمال کا پہلی بار محکمہ جنگلات کے مقامی حکام کو ہی اختیار دیدیا گیا۔ لکڑی چوری روکنے کیلئے صرف 4 فٹ اونچے پلرز کے ساتھ ایک عام لوہے کی تار لگائی جا رہی ہے اور پلرز بھی ڈی ایف او کی رہائش گاہ کے سامنے ملی بھگت سے انتہائی ناقص میٹریل سے بنوائے جا رہے ہیں اور اس وال پر 10 فٹ کے گیٹ لگائے جا رہے ہیں جن کی تعمیر میں بھی لاکھوں کی خوردبرد کی جا رہی ہے۔ ایس ڈی او نے کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث اپنے منظور نظر گارڈز کے خلاف ہونے والی انکوائریاں کئی سال سے دبا رکھی ہیں اور انہیں فاریسٹ آفیسرز کا قائم مقام چارج دیکر پرکشش بلاکس میں تعینات کرکے ان سے لاکھوں روپے مہینہ وصول کئے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب دن دیہاڑے لکڑی چوری بھی عام ہو گئی ہے۔ اس مقصد کیلئے فی سائیکل ماہانہ 15 ہزار روپے، فی موٹر سائیکل 20 ہزار روپے اور فی گدھا ریڑھی 30 ہزار روپے تک بھتہ لیا جا رہا ہے۔ جنگل میں کام کرنے والے مزدوروں کو 300 روپے یومیہ نقد دینے کی بجائے انہیں ہزاروں روپے کی لکڑی بطور معاوضہ دی جا رہی ہے۔ نئی پلانٹیشن جہاں سات کروڑ روپے سردست خرچ کئے جا رہے ہیں۔ لاکھوں روپے کے پوداجات دو ماہ قبل ہی خرید لئے گئے جن کی تاحال پلانٹیشن نہیں کی گئی اور سینکڑوں پودے ضائع ہو چکے ہیں۔ اس طرح نئے کاموں میں بھی گھپلوں کی منصوبہ بندی تیار کر لی گئی ہے اور اس مقصد کیلئے وزیراعلی پنجاب کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کے ارکان کو ایسی جگہوں پر وزٹ کرایا جائے گا جہاں ظاہری طور پر نمودونمائش کی گئی ہو گی اور کمیٹی کو بتایا جائے گا ایسی ہی پلانٹیشن پورے جنگل میں کی گئی ہے۔