محکمہ پولیس کی جانب سے مہنگی ایڈونچر موٹر سائیکلیں خریدنے کی کوشش، وزیر اعلیٰ کا نوٹس

لاہور (سید شعیب الدین سے) وزیراعلیٰ پنجاب نے محکمہ پولیس کی طرف سے مہنگی ایڈونچر موٹر سائیکل خریدنے کی کوششوں کا نوٹس لے لیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر وزیر داخلہ پنجاب کرنل (ر) شجاع خانزادہ گزشتہ روز سارا دن پولیس افسران اور دیگر محکموں پر مشتمل افراد کے اجلاس کی صدارت کرتے رہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق فیصلہ پولیس کی ’’پسندیدہ‘‘ مہنگی 500 سی سی موٹر سائیکل کی بجائے لاہور کی سڑکوں پر بآسانی چلائی جانے والی 250 سی سی موٹر سائیکل کے حق میں ہوا۔ شجاع خانزادہ کل وزیراعلیٰ سے ان کی حتمی اجازت لیں گے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ترک پولیس کی طرز پر پنجاب میں بنائی جانے والی ڈولفن فورس کیلئے موٹر سائیکلوں کی خریداری کا معاملہ 8 ماہ قبل شروع ہوا جس پر جاپان کی موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی کی پاکستانی کمپنی نے 300 موٹر سائیکلوں کیلئے اپنی 250 سی سی موٹر سائیکل کیلئے کاغذات جمع کرائے۔ یہ موٹر سائیکل اس کمپنی نے ساڑھے سات لاکھ روپے میں فراہم کرنا تھی۔ جبکہ جاپان کی جس دوسری کمپنی کی 250 سی سی موٹر سائیکل نے مقابلہ کیا ا س کی قیمت 12 لاکھ سے زیادہ تھی جس پر 250 سی سی موٹر سائیکل ساڑھے سات لاکھ روپے میں فراہم کرنے کی گارنٹی دینے والی کمپنی کو کہہ دیا گیا کہ ٹینڈر انہیں دیا جائے گا۔ جس پر انہوں نے 45 لاکھ روپے کی بنک گارنٹی تک جمع کرادی۔ مگر پھر اچانک پولیس افسران نے پیپرا کی ویب سائٹ پر 500 سی سی موٹر سائیکل کیلئے پیشکشیں مانگ لیں۔ 12 لاکھ سے زیادہ میں 250 سی سی دینے والی کمپنی نے 500 سی سی موٹر سائیکل 18 لاکھ میں دینے کی پیشکش کی۔ اس ایڈونچر موٹر سائیکل کی خریداری کیلئے ہوم ورک محکمہ پولیس تیزی سے مکمل کررہا تھا کہ 250 سی سی موٹر سائیکل سستے داموں مہیا کرنے والی کمپنی نے 500 سی سی کی بجائے 650 سی سی موٹر سائیکل 15 لاکھ میں یعنی 3 لاکھ کم میں فراہم کرنے کی پیشکش جمع کرا دی مگر پولیس حکام 15 لاکھ میں 650 سی سی موٹر سائیکل لینے کی بجائے اپنی مرضی کی کمپنی سے 500 سی سی موٹر سائیکل 18 لاکھ روپے میں خریدنے پر بضد رہے۔ اس صورتحال کی اطلاع وزیراعلیٰ پنجاب کو ملی تو انہوں نے فوری طور پر وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ کو دو دن میں سارے معاملے کی چھان بین کرکے رپورٹ دینے کی ہدایت کی۔ شجاع خانزادہ نے گزشتہ روز پولیس افسران، موٹر سائیکل کمپنیوں کے نمائندوں سے سول سیکرٹریٹ میں سارا دن مذاکرات کئے اور ذرائع کے مطابق اب 250 سی سی موٹر سائیکل ہی خریدی جائے گی کہ لاہور کی سڑکوں پر آرام سے چلائی جاسکتی ہے۔ جبکہ 500 اور 650 سی سی موٹر سائیکلیں اس حوالے سے لاہور کی ٹریفک اور ماحول میں زیادہ کارآمد نہیں ہیں۔