قرارداد مقاصد مقدس دستاویز ہے‘ جمہوریت‘ حریت اور مساوات پر زور دیا گیا: نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام نشست

لاہور (خصوصی رپورٹر) قرارداد مقاصد ایک مقدس دستاویز ہے جو پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی قرآن و سنت کے مطابق استوار کرنے کا موقع اور اقلیتوں و پسماندہ طبقات کے حقوق کو آئینی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اس اہم قرارداد کی تشریح اس انداز میں کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ عوام جان سکیں کہ یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نظریات کے مطابق پاکستان کو ایک جدید، اسلامی، جمہوری و فلاحی مملکت بنانے کےلے کون سی راہ عمل تجویز کرتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار تحریک پاکستان کے نامور کارکن، سابق صدر مملکت اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محمد رفیق تارڑ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں منعقدہ خصوصی نشست بعنوان”قرارداد مقاصد.... اہمیت اور غرض و غایت“ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔ نشست کا اہتمام نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ نشست کی صدارت ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی۔ اس موقع پر سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر‘ممتاز مسلم لیگی رہنما چوہدری نعیم حسین چٹھہ‘ تحریک پاکستان کے کارکن ڈاکٹر ایم اے صوفی، میاں محمد ابراہیم طاہر اور محمد یٰسین وٹو بھی موجود تھے۔ آغاز تلاوت قرآن مجید، نعت رسول مقبول سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت حافظ قاری امجد علی نے حاصل کی جبکہ بارگاہ رسالت مآب میں گلہائے عقیدت الحاج اختر حسین قریشی نے پیش کئے۔ محمد رفیق تارڑ نے اپنے پیغام میں کہا کہ درحقیقت یہ قرارداد ان رہنما اصولوں پر مشتمل ہے جن پر اس مملکت خداداد کے آئین کی بنیاد رکھی جانی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد تحریک پاکستان کے رہنماﺅں اور سرگرم کارکنوں کی دلی امنگوں کی ترجمان ہے۔ اسے قائداعظمؒ کے دست راست اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے منظوری کےلئے دستور ساز اسمبلی کے ساتھ سامنے پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اس اسمبلی کے ارکان کی غالب اکثریت بابائے قوم کے رفقائے کار پر مشتمل تھی۔پاکستان کی تاریخ کے ہر دور میں اس قرارداد کو اہمیت حاصل رہی ہے۔1956ئ‘ 1969ئ‘ 1972‘ءاور 1973ءمیں بننے والے دساتیر میں قرارداد مقاصد بطور دیباچہ شامل رہی تاہم صدر جنرل محمد ضیاءالحق نے 2 مارچ 1985ءکو 1973ءکے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے اس کے آرٹیکل 2 میں شق الف کا اضافہ کر دیا اور قرارداد مقاصد کو آئین کا مستقل حصہ بنا دیا۔تاہم حالیہ چند برسوں سے پاکستان کے لادین عناصر اور مغربی و ہندووانہ تہذیب و ثقافت کا دلدادہ طبقہ اس قرارداد کواس کی اسلامی شقوں کے باعث ہدفِ تنقید بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد ملت خان لیاقت علی خاں نے قرارداد کا مسودہ پیش کرتے وقت واضح کیا تھا کہ پاکستان مفاد پرستوں اور مالدار طبقوں کی ہوسِ زر کے لیے نہیں بنا بلکہ اس کا مقصد اسلام کے بنیادی اصولوں پر ایک منصفانہ معاشی نظام کی تعمیر ہے۔ اپنے عروج و کمال پر پہنچنے میں جو وجوہ انسانیت کی راہ میں مانع ہیں‘ وہ افلاس اور پسماندگی ہیں اور پاکستان سے ہم (انشاءاﷲ) ان کو مٹا کر چھوڑیں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ قرارداد مقاصد کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ ہمیں اپنے طرز ہائے فکر وعمل پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہ قرارداد بالخصوص پاکستان کے حکمران طبقے سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے اعمال کو درست رکھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد کی روشنی میں ہمیں اپنی سیاسی‘ اقتصادی اور معاشرتی زندگی کی اصلاح کرنی چاہیے۔ اپنی نوعیت اور افادیت کے اعتبار سے یہ دنیا بھر میں ایک بہترین دستاویز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی تقاریر و بیانات میں حصول تعلیم پر خصوصی زور دیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے ہم اس ضمن میں ان کے افکار پرپوری یکسوئی کے ساتھ عمل نہیں کر سکے جس کے نتیجہ میں آج 80فیصد پاکستانی بچوں کو درس و تدریس کی معیاری سہولتیں حاصل نہیں ہیں۔ اگر انہیں اپنی ذہنی صلاحیتیں پورے طور پر بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کر دیئے جائیں تو یہ بہت جلد پاکستان کو دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ اور خوش حال ممالک کی صف میں لا کھڑا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اہم قومی معاملات پر فکری محافل کا تواتر کے ساتھ انعقاد کرتا رہتا ہے تاکہ عوام الناس کی موثر رہنمائی ہو سکے۔انہوںنے مزید کہا کہ پنجاب کے درویش صفت رہنما غلام حیدر وائیں ایک ادارہ ساز شخصیت تھے جنہوںنے اپنے دور اقتدار میں متعدد ادارے قائم کئے جن میں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ بھی شامل ہے۔ بعدا زاں آبروئے صحافت اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن ڈاکٹر مجید نظامی نے اسے حیات نو عطا کی اور اسے پاکستانی قوم کی اُمیدوں اور آرزوﺅں کا محور و مرکز بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ تند وتیز ہوائیں چل رہی ہیں مگر یہ ادارہ اپنے معمار ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم کی روشن کردہ شمع کی روشنی میں ترقی کرتا رہے گا۔ سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر نے کہا کہ اس قرارداد میں اسلامی شعائر اور عصر حاضر کی ضروریات کا خوبصورت توازن پایا جاتا ہے۔ اس میں جمہوریت، حریت اور مساوات پر زور دیا گیا ہے۔ ہمیں اس قرارداد کی اس انداز میں تشریح کرنی چاہیے کہ یہ معاشرے کو آگے کی طرف بڑھا سکے۔ انہوں نے نشست میں موجود نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ دیں کیونکہ علم کے ہتھیاروں سے مسلح ہو کر ہی ہم کائنات کی تسخیر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب قرآن مجید کے احکامات کے مطابق مسلمان کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کی نشانیوں پر تدبر کرتے تھے تو دنیا پر حکمرانی بھی کرتے تھے مگر جب انہوں نے یہ کام ترک کر دیا تو مغلوب ہو گئے۔ اگر ہم دین اسلام کی حقیقی روح کا فہم حاصل کر لیں اور اپنی حالت کو خود بدلنے کا تہیہ کر لیں تو ماضی کی طرح دوبارہ عروج حاصل کر لیںگے۔