افسروں کی تنخواہ، مراعات میں 50 فیصد اضافے کی آج منظوری دیکر سفارشات وزیر اعلیٰ کو بھجوائی جائینگی

لاہور (معین اظہر سے) وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر بننے والی کمیٹی گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے افسران کی تنخواہوں اور مراعات میں 50 فیصد اضافے کی آج منظوری دے کر وزیراعلیٰ کو اپنی سفارشات بھیجے گی۔ دیگر سفارشات میں محکمے کے سربراہ سیکرٹری کو اضافی مراعات دینے، اس کو اپنے پسند کی ٹیم محکمے میں تعینات کرنے، اس کی تعیناتی کو قانونی تحفظ دینے، اور اس کو فنانشل و ایڈمنسٹریٹو خود مختاری دینے کی سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ سیکشن آفیسر کی پوسٹ کا نام تبدیل کرکے اسٹنٹ سیکرٹری کر دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ اعلیٰ سطح کمیٹی جو ڈاکٹر ظفر الطاف قریشی کی سربراہی میں قائم کی تھی جس میں عزم الحق وزیراعلیٰ کے ایڈوائزر، ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، ملک محمد علی کھوکھر، قاضی عدنان فرید، مخدوم ہاشم، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب، چیئرمین پی اینڈ ڈی، ایم ڈی میٹرو بس، سیکرٹری سروسز، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری انڈسٹری، سیکرٹری ریگولیشن، چیئرمین انفرمیشن ٹیکنالوجی بورڈ، سیکرٹری زکوۃ، ڈی جی ایل ڈی اے جبکہ پرائیویٹ ممبران میں اعزاز اختر، مجتبیٰ جمال، علی چیمہ، ڈاکٹر نوید حامد، ڈاکٹر علی تراب، ڈاکٹر علی ملک شامل ہیں۔ یہ سب کمیٹی سرکاری محکموں میں کارکردگی جانچنے نئے طریقہ کار، گریڈ 17 سے 19 کی خالی اسامیوں پر تجاویز، محکموں کے سٹرکچر کو بہتر کرنے، الائونسز کا جائزہ لینے، ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل ، گڈگورننس کی بہتری، عوام کو محکموں کے اندر پریشانیاں کم کرنے کی تجاویز کے لئے بنائی گئی تھی۔ کمیٹی کی میٹنگ آج ہوگی جس کے لئے جو ایجنڈا محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے جاری کیا ہے اس کے مطابق یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ بیوروکریسی کو اس وقت چار قسم کے پریشر درپیش ہیں۔ ان کے مطابق بیورو کریسی کو فنانشل خود مختاری، ایدمنسٹریٹو خود مختاری کے نہ ہونے اور اختیارات کو استعمال کرنے کی آزادی نہ ہونا کے علاوہ غیر ضروری سیاسی مداخلت کا سامنا ہے۔ اس لئے اداروں کے اندر کارکردگی کی بنیاد پر مراعات دینے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ ہر محکمے میں ایچ آر سیکشن بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ گریڈ 17 سے 19 تک کی خالی اسامیوں پر ڈی ٹی ایل کوٹہ سسٹم جو وفاق میں ہے قائم کرنے کی تجویز ہے جس پر محکمہ ریگولیشن نے اس کی مخالفت کی ہے کہ قانون میں ڈی ٹی ایل کوٹہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اگر بڑے گریڈوں پر یہ کوٹہ قائم کیا گیا تو دیگر سکیل پر بھی اسی طرح کی ڈیمانڈ شروع ہو جائیں گی اس لئے تجویز کیا گیا ہے کہ بڑی اسامیوں کا مسئلہ صوبائی سروس کے افسران کو تیز پروموشن دے کر حل کیا جا سکتا ہے تاہم بیورو کریسی نے سالانہ کارکردگی رپورٹ کا چارٹ تبدیل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جن تجاویز کی منظوری آج دی جائے گی اس کے مطابق سالانہ کاکردگی رپورٹ میں غلط لکھنے والے افسران کو کو کس طرح روکا جا سکتا ہے تاہم افسران کی ریکنگ بنانے، اسی طرح گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے افسران کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے، سیکرٹری یا ادارے کے سربراہ کی تعیناتی کے لئے نیا طریقہ کار اختیار کرنے، سیکرٹری کو اضافی مراعات دینے کی تجاویز، ہر محکمے کے لئے ان کے سالانہ ٹارگٹ کو سیٹ کرنے، سیکرٹری کو اپنی ٹیم کی سلیکشن کی خود مختاری دینے، سیکرٹری کو فنانشل و ایڈمنسٹریٹو اتھارٹی میں اضافہ کے لئے کی تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی۔