ڈی جی رینجرز کے بیان کردہ حقائق چشم کشا ہیں، ناجائز پیسے کی فراوانی روکی جائے: سیاسی رہنما

لاہور (خصوصی نامہ نگار+ آئی این پی) ڈی جی سندھ رینجرز کے بیان پر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ڈی جی رینجرز سندھ کے بیان کردہ حقائق کو چشم کشا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک انتہائی اہم ادارے کے سربراہ کی طرف سے پیش کئے جانے والے حقائق سیاسی بیان بازی یا الزام تراشی نہیں بلکہ خطرناک جرائم کی پردہ کشائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرحکومت، عدلیہ اور پولیس نے اس کو محض اخباری بیان سمجھ کر چھوڑ دیا تو یہ پاکستان کے مستقبل سے کھیلنے والی بات ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق زکوٰۃ صدقات اور قربانی کی کھالوں کے پیسوں کو جس مافیا کے ذریعے گھنائونے جرائم کیلئے خرچ کیا جارہا ہے یہ اللہ کے غضب کو بھڑکانے والی بات ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس رپورٹ میں جن سیاسی عناصر اور بااثر مافیا کا ذکر ہے، انہیں احتساب اور قانون کے شکنجے میں لایا جائے۔ دریں اثناء پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے ڈی جی رینجرز سندھ کی رپورٹ کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات کروائی جائے کہ 230 ارب روپے کے غیر قانونی بجٹ کا ہندسہ کہاں سے آیا ہے، پیپلز پارٹی کا زکوٰۃ، فطرہ ، قربانی کی کھالیں جمع کرنے اور چائنا کٹنگ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی پیپلز پارٹی کو ڈی جی رینجرز کی رپورٹ پر پریشانی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام تحقیقاتی ادارے حکومت سندھ کے ماتحت نہیں، یہ جو بھی الزامات لگائے جا رہے ہیں، ان کو صوبائی حکومت کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے تا کہ اصل بات واضح ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی تیل، چائنا کٹنگ سمیت دیگر معاملات آج کے نہیں ہیں، ان کے اعداد و شمار کے ٹھوس ثبوت فراہم کئے جائیں۔ پارلیمنٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈی جی رینجرز سندھ کے انکشافات کوئی معمولی بات نہیں، ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے ناجائز پیسوں کی فراوانی کو روکنا ہو گا، وفاقی حکومت واضح کرے کہ وہ اس سلسلے میں کیا اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کو 24ناموں کی فہرست دی گئی ہے جس میں بعض وزراء کے نام بھی شامل ہیں، ان تمام ناموں کو پوری قوم کے سامنے لایا جائے اور قوم اصل حقائق جانا چاہتی ہے۔