بھارتی دھمکیوں کے خلاف جماعت الدعوۃ اور دیگر تنظیموں کا ملک گیر احتجاج

لاہور (خصوصی نامہ نگار + اپنے نامہ نگار سے + نمائندگان + ایجنسیاں) جماعۃالدعوۃ پاکستان کے زیر اہتمام بھارتی دھمکیوں کے خلاف جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا۔ اس سلسلہ میں لاہور و وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں و آزاد کشمیر میں ضلعی سطح پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔سب سے بڑا مظاہرہ لاہور کے چوبرجی چوک میں ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے دوران زبردست جذباتی ماحول دیکھنے میںآیا۔ شرکاء کی جانب سے بھارت سرکار اور نریندر مودی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’انڈیاجان لے! پاکستان برمانہیں ہے‘ بھارتی وزیر اعظم کی مشرقی پاکستان میں مداخلت کے اعتراف پرعالمی برادری بھارت کودہشت گردملک قراردے‘ بھارت پاکستان کا پسندیدہ ملک ہرگز نہیںہوسکتااورمودی بھارت کا گورباچوف ثابت ہو گا‘‘ جیسی تحریریں درج تھیں۔ مظاہروں کے دوران میانمار ( برما) میں قتل عام کی بھی سخت مذمت کی گئی اوراس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ چوبرجی چوک میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ سے امیر جماعۃالدعوۃپروفیسر حافظ محمد سعید، مولانا امیر حمزہ، مولاناابو الہاشم،قاری ثناء اللہ فاروقی، حافظ حبیب الرحمن، حافظ محمد شعیب ودیگر نے خطاب کیا۔ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میںکہاکہ وزیراعظم نوازشریف بھارتی دھمکیوں کے خلاف اے پی سی بلائیں۔ تمام سیاسی جماعتوں اور صوبوں کے نمائندوں کو بلائیں اور متفقہ طور پر پالیسی ترتیب دیں کہ انڈیا دوست نہیں دشمن ملک ہے۔ بھارتی دھمکیوں پر منتخب وزیراعظم نواز شریف نے جواب دیا خوشی ہوئی لیکن معاملہ بہت آگے جا چکا ہے۔مسئلہ صرف مودی کے پاکستان توڑنے کے بیان کا نہیں بلکہ دھمکیاں دینے کا ہے۔انڈیا مسلسل پاکستان کو نقصانات سے دوچارکرنے کی کوششیںکر رہا ہے۔بھارتی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ ہم یہ سب کچھ بلوچستان میں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارت سے تجارت میں اربوں ڈالر کا نقصان پاکستان نے برداشت کیالیکن اب پانی سر سے گزر چکا ۔انڈیا کواسکی زبان میںجواب دیے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو گا۔ وزیراعظم نواز شریف اقوام متحدہ،سیکورٹی کونسل میں بھارت کے خلاف مقدمہ دائر کریں ۔اب کسی ثبوت کی ضرورت نہیں مودی کی ڈھاکہ والی تقریر ہی انڈیا کو دہشت گرد ملک قرار دینے کے لئے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھارتی قومی پالیسی کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسی بنانی چاہئے۔ بھارت دہشت گرد ملک ہے۔سلامتی کونسل کی سیٹ نہیں لے سکتا۔جو کام امریکا خود نہیں کر سکا وہ انڈیا کو افغانستان میں بٹھا کر کروا رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ڈھاکہ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حسینہ واجد سے ایوارڈ وصول کیا اورکہا کہ ہم نے مشرقی پاکستان کو توڑا اور بنگلہ دیش بنایا۔وہاں دو بنیادی فریق تھے ایک ایوارڈ دے رہا تھا اور دوسرا وصول کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف افغان صدر اشرف غنی کو کہیں کہ جب تک بھارت افغانستان میں ہے دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی اسے وہاں سے نکالا جائے۔پاک فوج کا ضرب عضب آپریشن کامیابی سے جاری ہے جس سے انڈیا کے خواب چکنا چور ہوئے اور انکی دشمنی زبانوں پر آ گئی۔ جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ بھارت کو پریشانی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی، شبیر شاہ، مسرت عالم بٹ اور آسیہ اندرابی کی قیادت میں پاکستان اورجماعۃ الدعوۃ کے پرچم لہرائے جارہے ہیں۔ ہم مظلوم کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ دریں اثناء اسلام آباد میں جامع مسجد قبا آئی ایٹ مرکز کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر جماعۃالدعوۃسیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، جماعۃ الدعوۃ اسلام آباد کے شفیق الرحمن و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کی دہشت گردانہ پالیسیوں پر خاموشی اختیار کرنا خودکشی کے مترادف ہو گا۔ہم اس حوالہ سے تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کوساتھ ملاکر پورے ملک میں زبردست تحریک چلائیں گے۔ گوجرانوالہ میں پریس کلب کے باہر تحریک حرمت رسول ﷺ اور جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما قاری یعقوب شیخ، مولانا محمد رمضان منظور ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی قوم بھارتی دھمکیوں سے متاثر ہونے والی نہیں۔ پاکستان کے خلاف کسی نے میلی نگاہ ڈالی تواس کی آنکھیں پھوڑ دی جائیں گی۔ مظاہرہ میں طلبائ، وکلاء اور تاجروں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادکی کثیر تعدادنے شرکت کی۔جماعۃالدعوۃ کی جانب سے راولپنڈی پریس کلب کے باہر بھی مظاہرہ کیا گیاجس سے جماعۃالدعوۃ راولپنڈی کے مولانا عبدالرحمن و دیگر نے خطاب کیا۔کراچی میں جماعۃالدعوۃکی جانب سے پریس کلب کے باہر بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے بھارت کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور بھارتی ترنگا بھی جلایا گیا۔ جماعۃ الدعوۃ سندھ کی طرف سے حیدرآباد، سکھر، میر پور خاص، نواب شاہ، شہداد پور و دیگر علاقوںمیں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے اورریلیاںنکالی گئیں۔ ملتان میںجماعۃالدعوۃ کی جانب سے چوک نواں شہر میں بھارتی دھمکیوں اور نریندر مودی کی طرف سے پاکستان کو دولخت کرنے کا اعتراف کرنے کے خلاف بڑااحتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اسی طرح لودھراں، وہاڑی، مظفر گڑھ، بہاولپور، خانیوال و دیگر علاقوں میں بھی خطبات جمعہ میں بھارتی دھمکیوں کے خلاف مذمتی قراردادیں پاس کی گئیں اور بھارت سرکار کے رویہ کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ جماعۃالدعوۃ کی طرف سے ملک بھر کی طرح پورے جنوبی پنجاب میںبھی یوم احتجاج منایا گیا۔ پشاور میں جماعۃ الدعوۃکی طرف سے مرکز خیبر صدر فوارہ چوک سے پشاور پریس کلب تک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور بھارت مخالف نعرے بازی کی گئی۔ فیصل آباد میں جماعۃالدعوۃ نے ضلع کونسل چوک میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ بھارتی دھمکیوں کی حیثیت گیدڑ بھبھکیوں سے زیادہ نہیں ہے۔ جماعۃ الدعوۃ کے زیر اہتمام کوئٹہ میں بھی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جماعۃ الدعوۃ کے زیر اہتمام گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، وزیر آباد، اوکاڑہ،رائے ونڈ، قصور، ساہیوال، بہاولنگر، چشتیاں، عارف والا، مظفر آباد، کوٹلی، میر پور اور چاروں صوبوں و آزاد کشمیر کے دیگر مختلف علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاںنکالی گئیں۔ شیخوپورہ میں جماعۃ الدعوۃ کے زیر اہتمام بعداز نماز جمعہ مرکز خالد بن ولید ریگل چوک میں میانما، روہنگیا کے مسلمانوں کے قتل عام، ظلم و بربریت، انسانیت سوز مظالم کے خلاف بھارتی وزیراعظم نریندر مود کی الزام تراشی اور دھمکیوں کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بڑے بڑے بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر بھارت اور امریکہ کے خلاف نعرے درج تھے۔ علاوہ ازیں عالمی جماعت اہلسنت کے زیر اہتمام بھی ملک بھر میں بھارت مردہ آباد منایا گیا۔ جمعہ کے اجتماعات میں مساجد میں زبردست نعرے بازی کی گئی اور بھارت کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔ مقررین نے بھارت کے مودی ہوں یا موذی ہم گھبرانے والے نہیں۔ بھارت نے اگر کسی حماقت کا مظاہرہ کیا تو ایسا سبق سکھایا جائے گا کہ مودی کو دن کو تارے نظر آئیں گے۔ علاوہ ازیں انجمن طلبہ اسلام پاکستان کے زیر اہتمام بھی بھارتی گیڈر بھبھکیوں اور برما میں ظلم کے خلاف ملک گیر ’’یوم احتجاج ‘‘ منایا۔ جمعہ کے اجتماعات میں اہل سنت کی دس لاکھ مساجد برما کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف اور بھارتی دھمکیوں کے خلاف قراردادیں منظورکی گئیں، اس موقع تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ’’ استحکام پاکستان و پاک فوج زندہ باد‘‘ موضوع پر کانفرنسیں ، سیمینارز، مذاکرے جلسے، جلوس اور ریلیاں منعقد کیں گئیں۔ ادھر بھارتی قیادت کے بیانات کے خلاف وکلاء برادری میدان میں آگئی۔ پاکستان جسٹس پارٹی کے زیر اہتمام جی پی او چوک میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا پتلا نذر آتش کر دیا گیا۔ جسٹس پارٹی کے زیر اہتمام جی پی او چوک پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستان مخالف بیانات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں بھارت کے خلاف اور پاکستان اور مسلح افواج کے حق میں زبردست نعرے بازی کی گئی۔ اس موقع پر وکلاء نے مطالبہ کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نے بنگلہ دیشن میں پاکستان توڑنے کے جرم کو خود تسلیم کر لیا ہے اس لئے اس کی رکنیت جنگی جرائم کی وجہ سے ختم کی جائے۔ آخر میں بھارتی وزیر اعظم کے پتلے کو جوتیاں مارتے ہوئے نذر آتش کر دیا گیا۔ گوجرانوالہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث سٹی نے جمعہ کے خطبات میں بھارتی حکمرانوں کی طرف سے پاکستان کو دی گئی دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکمران یاد رکھیں کہ پاکستان اب ان کے لئے ترنوالہ نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، بھارت کی مہم جوئی اس اپنے گلے پڑ جائے گی۔ پاکستانی قوم کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے متحد ہے۔