بجٹ سے مہنگائی آئے گی، توانائی، پانی کے منصوبوں پر زیادہ رقم رکھنی چاہئے: عوام

لاہور (سپورٹس رپورٹر) صوبائی حکومت کی جانب سے مالی سال 2015-16ء کے لئے پیش کئے جانے والے بجٹ پر عوام نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ اکثریت کا کہنا تھا کہ جب وفاق کی جانب سے بجٹ میں غریبوں کے لئے کچھ نہیں رکھاگیا تھا تو صوبائی بجٹ سے کیا توقع کی جاسکتی تھی۔ شاہدرہ کے احد سرور چیمہ کا کہنا تھا کہ اصل بجٹ تو بعد میں آئے گا جب ہر روز اشیا کو مہنگا کیا جائے گا۔ پولٹری فیڈ پر لگنے والا جی ایس ٹی عوام کی جیبوں سے ہی نکلے گا۔ گڑھی شاہو کے جاوید نے بتایا کہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کی تعداد کو بڑھایا گیا جب کہ اس وقت انرجی کا شدید بحران ملک کو لاحق ہے۔ ترقیاتی منصوبوں پر بھاری رقوم خرچ کئے جانے کی بجائے انرجی اور مستقبل میں پانی کے بحران پر قابو پانے کے لئے سکیمیں متعارف کرائی جاتیں تو اچھا تھا۔ مزنگ کے ارشد کاکہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ مزنگ کے دکاندار ریاض کا کہنا تھا کہ حکومت کوئی مہنگائی نہیں کرتی، اصل میں بڑے صنعتکاروں کو منافع کی فکر پڑ جاتی ہے جس پر وہ ٹیکس میں ہونے والے اضافے کا تمام بوجھ عوام پر ڈال دیتے ہیں۔ اچھرہ کے تاجر ابراہیم کا کہنا تھا کہ بجٹ کا فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب عام آدمی کو کچھ ریلیف ملے۔ ایک نوجوان طالب علم کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبہ کی ترقی کے لئے حکومت کو کل بجٹ کا 70 فیصد خرچ کرنا چاہئے۔