اسرائیل سکیورٹی سٹیٹ‘ قومی سلامتی کیلئے ہر وقت چوکس اور شک کی حالت میں غرق

لاہور (خصوصی رپورٹ) ’’اسرائیل ایک سکیورٹی سٹیٹ ہے جو اپنی قومی سلامتی اور ریاستی تحفظ کے لیے ہر لحظہ چوکس اور ہر لمحہ شک کی حالت میں غرق رہتا ہے۔ یہ بات ایک پاکستانی محمد اظہر علی نے اپنے سفرنامے ’’ایک پاکستانی کا سفرِ اسرائیل‘‘ میں بیان کیا ہے۔ جسے ماہنامہ آتش فشاں 78 نے شائع کیا ہے۔ اسرائیل میں کوئی پاکستانی داخل تک نہیں ہو سکتا۔ اس کے باوجود محمد اظہر علی اسرائیل میں داخل ہوئے، یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات وزٹ کئے اور اسرائیل کا اصل روپ ’’ایک پاکستانی کا سفرِ اسرائیل‘‘ میں سمو ڈالا۔ مصنف لکھتا ہے کہ اسرائیل کی قابض حکومت مقبوضہ فلسطین کے جس بھی علاقے، شہر، گاؤں، وادی اور پہاڑ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اسے اسرائیل کی دینی قومی مملکت سے موسوم کر کے اس پر بہ قوت قبضہ کر لیتی ہے۔ اتاہم فلسطینی مسلمان اور عیسائی آزاد اور خودمختار فلسطین کے لیے متحد اور یکسو ہیں۔محمد اظہر علی لکھتے ہیں کہ بلاشبہ اسرائیل نے اسلحہ، دفاعی، سائنسی اور اقتصادی لحاظ سے بہت ترقی کی ہے۔ تاہم بلانکاح ازدواجی زندگی‘ بے باپ بچے اور عورتوں اور مردوں میں ہم جنس پرستی کی لت فروغ پا رہی ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی کے بارے میں مصنف لکھتا ہے کہ ہم مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لئے گئے تو موٹروے پر فوجی چوکیوں اور شناختی چیکنگ گیٹس کی کثرت نے ایک وسیع قیدی کیمپ کی صورت اختیار رکھی تھی۔ کاروں کا تانتا بندھا تھا چیکنگ کا مرحلہ بڑا سخت اور کٹھن ہوتا ہے۔ یورپی اور غیرملکی مسافروں کے لئے تو کاروباری اخلاقیات برتی جاتی ہیں، لیکن مقامی فلسطینیوں کی چیکنگ ظالمانہ انداز میں ہوتی ہے ایسے مواقع پر ہنگامہ آرائی ہوتی ہے۔ ٹورازم اسرائیل کی ایک بڑی اکانومی ہے۔