بھارتی چالوں پر نظر رکھنی چاہئے‘ حکومت معذرت خواہانہ رویہ کی بجائے ثبوت مانگے: حمید نظامی ہال میں مذاکرہ

بھارتی چالوں پر نظر رکھنی چاہئے‘ حکومت معذرت خواہانہ رویہ کی بجائے ثبوت مانگے: حمید نظامی ہال میں مذاکرہ

لاہور ( سیف اللہ سپرا+ معین اظہر ) حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کی بجائے پاکستان کی کسی بھی تنظیم کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگے اور اقوام متحدہ کا اقدام غلط ہے انہوں نے پاکستان کا موقف سنے بغیر غلط فیصلہ دیا ہے ، جماعۃ الدعوہ پر پابندی سے ہماری خودمختاری پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں، اصل ٹارگٹ ہمارا اٹیمی پروگرام ہے، ہمارے ادارے امریکہ کے لئے کام کررہے ہیں ، ہم امریکہ کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ ہمارا موقف ماننے کے لئے تیار نہیں ہے اور بھارت کے ساتھ کھڑا ہے ہمیں بھارتی چالوں پر نظر رکھنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار روزنامہ نوائے وقت کے زیر اہتمام حمید نظامی ہال میں منعقد مذاکرہ جس کا عنوان تھا ’’ ممبئی دہشت گردی کا ڈرامہ اور حکمرانوں کا معذرت خواہانہ رویہ‘‘ سے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی سعد رفیق ، خالد رانجھا ، جماعت اسلامی کے رہنما امیر العظیم ، سابق ایم پی اے شازیہ چاند ، تحریک انصاف کے راہنما ڈاکٹر شاہد صدیق ، پیپلز پارٹی کے رکن چودھری مطلوب، مسلم لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی زعیم قادری ، ق لیگ کی رکن صوبائی اسمبلی عائشہ جاوید ، پیر اطہر قادری ، احسان بٹالوی ماہر معاشیات نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مذاکرے کی نظامت کے فرائض پرویز حمید نے انجام دئیے۔ سعد رفیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹوٹنے کے بعد سیاسی‘ قومی قیادت اور قوم نے سبق نہیں سیکھا آج اگر سبق سیکھا ہوتا تو ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی ایجنسیاں ہمارے ساتھ ظلم کرتی ہیں تو وہ ہم عالمی سطح پر کیوں نہیں لے کر جاتے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی ہم اپنے معاملات کو سمیٹ سکتے ہیں۔ ہمیں بھارتی چالوں پر نظر رکھنی چاہئے۔ کشمیر کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے دنیا کو بتانا چاہئے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر خطے میں امن نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ ممبئی میں جو بھی دہشت گردی ہوئی ہے یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارتی حکومت مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ عیسائیوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے‘ سکھوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔ ممبئی میں ہونے والی دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں یہ بھارت کو تلاش کرنی چاہئیں۔ عائشہ جاوید نے کہا کہ ممبئی میں ہونے والے حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کرنا پاکستان کے امن پسند عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیرالعظیم نے کہا کہ جماعۃ الدعوۃ پر پابندی ہماری خودمختاری پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک بھارت پاکستان کے ملوث ہونے کی کوئی شہادت فراہم نہیں کر سکا۔ ممبئی بم دھماکوں والا سین فلمی ہے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ امریکہ کو ماضی کے مجاہدین اب دہشت گرد نظر آ رہے ہیں اور اب امریکہ ان کو پاکستان کی طرف دھکیل رہا ہے۔ پیر اطہر قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں 23 دہشت گرد گروپ اپنی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ممبئی دھماکہ دراصل انڈیا کا داخلی مسئلہ ہے اقلیتیں وہاں مظلومیت کی زندگی بسرکر رہی ہیں۔ شازیہ چاند نے کہا کہ بھارت نے ممبئی بم دھماکوں کا الزام پاکستان پر بغیر سوچے سمجھے لگایا بھارت اب امریکہ کا اتحادی بن کر آ رہا ہے۔ زعیم قادری نے کہا کہ میں ادارہ نوائے وقت کا شکرگزار ہوں کہ اس ادارے نے نظریہ پاکستان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ پچھلے آٹھ سالوں میں پاکستان کو بہت کمزور کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ نے جس طرح جماعۃ الدعوۃ کے خلاف اقدام کیا ہے وہ مناسب نہیں۔ چودھری مطلوب خان نے کہا کہ جو ایٹم بم بنانا جانتے ہیں وہ اس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔ بھارت کو بھی علم ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ احسان بٹالوی نے کہا کہ آج جن لوگوں کو دہشت گرد قراردیا جا رہا ہے ممکن ہے وہ اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہوں۔ ہمیں اپنے آپ کو اقتصادی طور پر مضبوط بنانا ہو گا۔