امتحانات قریب ہیں کہاں جائیں‘ جماعۃ الدعوۃ کے سکولوں میں بچوں کے والدین پریشان

لاہور (خبر نگار خصوصی) حکومت پاکستان کی طرف سے جماعۃ الدعوۃ پر پابندی کے بعد پولیس انتظامیہ نے ملک بھر میں کئی مقامات پر جماعۃ الدعوۃ کے زیر انتظام چلنے والی فری ڈسپنسریوں‘ ہسپتالوں اور سکولوں کو بھی سیل کر دیا جس پر مریضوں‘ ان کے لواحقین اور بچوں کے والدین میں زبردست پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔ جماعۃ الدعوۃ کے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ امتحانات سر پر ہیں ہم بچوں کو لے کر کہاں جائیں‘ حکومت کو ان اقدامات کا نوٹس لینا چاہئے اور کم از کم سکولوں‘ ڈسپنسریوں اور ہسپتالوں کو تو سیل مت کیا جائے۔ جماعۃ الدعوۃ کے ترجمان عبداللہ منتظر نے سکول بند کئے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ منظم منصوبہ بندی کے تحت میڈیا میں افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ سکول ہم نے بند کئے ہیں جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہم بچوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسی حرکتیں نہ کرے جن سے بچوں کے مستقبل پر زد پڑتی ہو۔