پنجاب میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے خودمختار ادارہ بنایا جائے: تحفظ ناموس اولیا کا کانفرنس

لاہور (خصوصی نامہ نگار) تحریک تحفظ حقوق اہلسنّت اور جماعت اہلسنّت کے زیراہتمام ”تحفظ ناموس اولیائ“ کانفرنس میں ایک متفقہ قراردادکے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے کرائسز مینجمنٹ اتھارٹی یا اینٹی ٹیررازم اتھارٹی کے نام سے خودمختار ادارہ تشکیل دیاجائے جس میں نظریہ¿ پاکستان اور برزگان دین کی تعلیمات سے کمٹمنٹ رکھنے والے افراد کا تعین کرکے انہیں فری ہینڈ دیا جائے۔ علماءمشائخ کی طرف سے یہ مطالبہ یا گیا کہ صوبے کے تمام مدارس میں بلاتخصیص اور مشکوک اداروں پر بغیر وارننگ کریک ڈاون کیا جائے اور ناجائز اسلحہ پکڑا جائے اور کسی دہشت گرد کا اگر کسی مدرسے، ادارے یا شخصیت سے تعلق ثابت ہوجائے تو اسے بھی دہشت گرد کا معاون قرار دے بار دہشت گردوں کی موت ثابت ہوگا۔ یہ قرارداد اور خیالات کا اظہار گذشتہ روزسلسلہ سیفیہ قادریہ کے آستانہ عالیہ واقع لکھو ڈیر دوروغے والا میں تحریک تحفظ حقوق اہلسنّت، جماعت اہلسنّت کے زیراہتمام ”تحفظ ناموس اولیائ“ منعقدہ کافرنس میں کیا گیا۔ اس موقع پرصاحبزادہ عبدالحمید جان سیفی، ڈاکٹر اشرف آصف جلالی، صاحبزادہ احمد یار سیفی، شفیق اللہ سیفی، صاحبزادہ عاشق اللہ سیفی، صاحبزادہ سیف اللہ سیفی، پیر فضل حق، صاحبزادہ محمد صفدر شاہ، پیر میاں محمد حنفی سیفی، حاجی عبدالمجید سیفی، علامہ نواز بشیر جلالی مفتی محمد آصف نعمانی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے علماءنے سانحہ داتا دربار میں قیام پاکستان کے مخالف کانگریسی ذہنیت رکھنے والے فرقہ پرست ملوث ہیںاور ملکی سالمیت سے کھیلنے والے دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے والے قومی مجرم ہیں۔