سائنس و ٹیکنالوجی میں تحقیق و تدبر سے پاکستان کے مستقبل کو تابناک بنایا جا سکتا ہے : مجید نظامی

لاہور (خبرنگار خصوصی) تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن، ممتاز صحافی اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کہا ہے دینی اور عمرانی علوم کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی میں تحقیق و تدبر سے پاکستان کے مستقبل کو تابناک بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے تحریک پاکستان کے دوران اور بعد میں طالب علموں کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلیٰ مہارت کے حصول کی تلقین کی۔ وہ ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں جاری نظریاتی سمرسکول کے دسویں سالانہ تعلیمی سیشن کے اٹھاویں روز فن سائنس کی نمائش کے افتتاح کے موقع پر طلبہ و طالبات سے خطاب کررہے تھے۔ مجید نظامی نے پروفیسر ڈاکٹر محمد نسیم، فرہاد علی خان اور پروفیسر ڈاکٹرر فیق احمد کے ہمراہ فن سائنس کی نمائش کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مجید نظامی نے کہا پاکستان کا قیام، ملت اسلامیہ کے اتحاد کے لئے ناگزیرتھا اس لئے قیام پاکستان سے پہلے قائداعظمؒ نے مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک کی قیادت کو باور کرایا تھا کہ پاکستان اپنی نظریاتی اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے ایک مضبوط مرکز بنے گا۔ ان کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی۔ پاکستان اپنے سائنس دان سپوتوں کی بدولت ملت اسلامیہ کی پہلی ایٹمی قوت بن گیا۔ انہوں نے طلبہ وطالبات کی سائنس میں گہری دلچسپی اور ان کے تیارکردہ سائنسی اشیاءکے ماڈل کو سراہتے ہوئے کہا وہ نظریہ¿ پاکستان کو ہمیشہ مد نظر رکھیں اور مسلمانوں کی نشاة ثانیہ کے احیاءکے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔ فن سائنس کے حوالے سے بچوں نے اپنے ٹیچر محمد آصف عمر کی رہنمائی میں 50 کے قریب مختلف سائنسی اشیاءکے دلچسپ ماڈل بنا کر ان کی پریذنٹیشن دی۔ بچوں نے بلڈ پریشر اور بارش ماپنے کا آلہ، ہوائی چکی، ہاتھ سے چلنے والی بیٹری، سمندر کے کنارے لائٹ ہاﺅس، شمسی اوون، سیٹلائٹ ماڈل، انسانی جسم کی ساخت‘ نظام شمسی اوردیگراشیاءکے ماڈل بنائے۔ اس مقابلے میں زوہیب عمران، ارتضیٰ علی، محمد منیر، شاہ محسن، خدیجہ ذوالفقار، محسن جمشید، تحریم فاطمہ، حمنہ، ماریہ بلال، سمیرا، ابیہہ، مریم، ماہ نور، عبدالرحمن، بشریٰ، تاشفہ ندیم، زرشہ ندیم، مریم اکبر، خدیجہ اسلم، طیبہ، محب اللہ، عنابیہ وارث، ملائکہ صابر، لائبہ فاطمہ، عاطف اکمل، نور الحق، بلال اسلم، احتشام، ولید اسلم، رصمان الحق، ماریہ، غانیہ، مریم کمال، حسنین مجاہد، غالیہ ارم، عرشیہ احسان، ایمن ، یسریٰ، ماریہ وقار، حسنین منیر، عمارہ سعید اور فہد حفیظ نے حصہ لیا۔