پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مذاق بن کر رہ گیا‘ الیکشن کمشن‘ حکومت ذمہ دار

 لاہور( فرخ سعید خواجہ) پنجاب اور سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مذاق بن کر رہ گیا جس کی ذمہ داری نہ صرف الیکشن کمشن اور حکومت پر آرہی ہے بلکہ عدلیہ بھی اس معاملے میں بری الذمہ قرار نہیں دی جاسکتی۔ لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ہونے والی نئی حلقہ بندیوں کو یکم جنوری کو اپنے مختصر فیصلے میں کالعدم قرار دیا تھا اس وقت الیکشن کمشن کے بلدیاتی انتخابات کیلئے جاری کردہ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی جاری تھی جسے 4جنوری تک مکمل کیاجانا تھا۔ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود یہ عمل جاری رہا کیونکہ الیکشن کے التواءکے حوالے سے کوئی واضح حکم سامنے نہیں آیا۔امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد کاغذات کی منظوری یا مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلیں7 جنوری تک فائل کی گئیں اور اُن کی سماعت گزشتہ روز ہفتہ کو مکمل کرلی گئی۔غیر یقینی صورتحال کے باعث اُن سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے بھی اپنی انتخابی مہم کو ہلکا کردیا ہے جنہیں اُن کی جماعتیں اپنا امیدوار ڈیکلیئر کرچکی ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کیس کی سماعت کل سوموار کو ہوگی اور اب نظریں سپریم کورٹ پر لگ گئی ہیں کہ اُن کی جانب سے کیا حکم سامنے آتا ہے۔
الیکشن مذاق