مشرف کی بیماری کو ڈرامہ کہنے والوں کو بھی یہ لگے تو پتہ چلے، صحتمند ہوئے تو وہ عدالت میں پیش ہوں گے: احمد رضا قصوری

لاہور (آن لائن) پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس دس سال میں بھی ختم نہیں ہوگا، خدا کرے کہ پرویز مشرف کی بیماری کوڈرامہ کہنے والوں کو بھی یہ بیماری لگے تو معلوم ہو کہ یہ کتنا بڑا دکھ ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ بیماری کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہوتا، یہ بتا کر نہیں آتی۔ جنرل آصف نواز دو دو گھنٹے ورزش کرتے تھے لیکن جب ان کا وقت آیا تو معمولی دل کے دورے سے انکا انتقال ہوگیا۔ کسی کی بیماری کے حوالے سے عدالت میں ڈاکٹر کی رپورٹ حتمی ہوتی ہے تاہم اگر عدالت کو شک ہو تو وہ بورڈ بھی بٹھا سکتی ہے، یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جج بھی انسان ہیں اور درد دل رکھتے ہیں اسلئے جب انہیں معلوم ہوا کہ پرویز مشرف کو بیماری کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا ہے تو انہوں نے مشرف کو استثنیٰ دیدیا۔ سپیشل پراسیکیوٹر اکرم شیخ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کیس دس ماہ میں ختم ہوجائیگا لیکن یہ کیس دس سال میں بھی ختم نہیں ہوسکتا یہ کوئی اللہ دتہ کا قتل کیس نہیں۔ ڈاکٹروں نے اجازت دی تو مشرف گھر چلے جائیں گے، صحتمند ہوئے تو 16 جنوری کو پیش ہوں گے، عدالتوں سے کوئی پریشانی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکا اور پرویز مشرف کا تعلق ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میڈم نورجہاں نے سب سے پہلا گانا انکے چچا کی شادی پر گایا تھا، بڑے غلام علی خان روزانہ میرے دادا کے پاس آکر گاتے تھے، ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ اس موقع پر جب انہوں نے یہ کہا کہ میرے دادا موسیقی کو اچھی طرح سمجھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی غلط طبلہ بجاتا تھا تو وہ طبلہ پھاڑ دیتے تھے۔ شریف آدمی ہوں اسی لئے بیوی سے ڈرتا ہوں۔ وکیل نہ ہوتا تو گورنمنٹ کالج میں تاریخ کا پروفیسر ہوتا۔