طالبان سے مذاکرات چاہتے ہیں، دوسرے فریق کی رضامندی ضروری ہے:ایاز صادق

لاہور (آئی این پی + این این آئی) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے حکومت طالبان سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے لیکن یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب دوسرا فریق بھی اےسا چاہے۔ 20 جنوری کو قومی اسمبلی میں امن و امان پر بحث ہوگی‘ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کیخلاف متحد ہیں‘ کسی ایک رکن کو نہیں قومی اسمبلی کے ارکان کی بڑی تعداد کو دھمکیاں مل رہی ہیں جن کی سکیورٹی کیلئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کر دی گئی ہے اور اس حوالے سے حکومتی سطح پر اہم اقدامات کئے جا رہے ہیں‘ چودھری اسلم نے ملک میں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے جان دی جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ کراچی میں آپریشن سے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ گلبرگ میں ایک کیفے کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا دہشت گردی ملک کا اہم مسئلہ ہے اور اس پر تمام جماعتیں متفق ہیں اور ملک میں امن وامان کو یقینی بنانے کیلئے تمام آپشنز موجود ہیں جن کو استعمال کیا جائیگا اور ہر صورت امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ این این آئی کے مطابق سردار ایازصادق نے کہا دہشت گردوں کی طرف سے متعدد ارکان قومی اسمبلی کو سنگین دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو خوفزدہ ہو کر گھر بیٹھ جائے، میڈیا کے ذریعے سامنے آنیوالی اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت سے بات کرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے طالبان کی طرف سے شیخ رشید کو دھمکیوں کے حوالے سے کہا ان سے فون پر رابطہ کرکے صورتحال پرگفتگو کی ہے اور انہیں ہرممکن سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ایاز صادق