سات سال گزرنے کے باوجود پنجاب اسمبلی کی نئی بلڈنگ مکمل نہ ہو سکی

لاہور (جاوید اقبال+ نیشن رپورٹ) وزیراعلی پنجاب شہباز شریف صرف 11 ماہ میں 30 ارب روپے سے میٹرو بس پروجیکٹ مکمل کروا کے داد وصول کر چکے ہیں مگر وہ سات سال گزرنے کے باوجود پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کیلئے فنڈز جاری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسکی تعمیر مکمل ہونے کیلئے ایک ارب سے زائد کے اخراجات درکار ہیں۔ 1935ءمیں تعمیر ہونے والی موجودہ عمارت 371 ارکان اسمبلی کیلئے ناکافی ہوگئی ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے ان مفروضوں کی تائید ہورہی ہے کہ موجودہ حکومت موجودہ عمارت کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی خواہشمند ہے۔ حکمران پارٹی کے ایک رکن اسمبلی نے کہا اسمبلی کی عمارت کو مکمل کرنے میں تاخیر سے اسکی لاگت میں اضافے ہو رہا ہے اور حکومت کا گریز سمجھ نہیں آتا۔ اسمبلی کے ایک عہدیدار نے کہا حکومت غیر ضروری تاخیر کر رہی ہے اس حوالے سے غیر معایری میٹریل کے استعمال جیسے معاملات کو بھی حل نہیں کیا جا رہا۔ نیسپاک کے ایک مشیر نے کہا کہ آپ اس عمارت کو جتنا استعمال کریں گے اسکی عمر کم ہوتی جائیگی۔ دستاویز کے مطابق نئی عمارت کی تعمیر کی لاگت 2.52 ارب روپے تھی۔ جون 2012ءتک 1.20 ارب روپے خرچ ہو چکے۔ اپوزیشن کے ایک رکن اسمبلی کے مطابق ستمبر 2007ءمیں اس عمارت کی تعمیر مکمل کرنے کا کہا گیا تھا مگر حکومت اس حوالے سے کام کو پسند نہیں کرتی۔
پنجاب اسمبلی بلڈنگ