’’گھر کی رونق چلی گئی‘‘ حماد اور رزاق کی مائیں غم سے نڈھال، عاشق کی بیٹی باپ کی منتظر

لاہور (نامہ نگار + لیڈی رپورٹر) داروغہ والا میں مسجد کی چھت گرنے سے شہید ہونے والے تیرہ سالہ نمازی حماد کاجنازہ جب اٹھایاگیا توگھر میں کہرام برپا ہوگیا، قرآن پاک حفظ کرنے والے چہارم کے طالبعلم کی والدہ رضوانہ شدت غم سے نڈھال تھی اور اپنے لخت جگر کا نام باربار پکار رہی تھی جبکہ والد عشرت علی نمازی بیٹے کی شہادت پر غم کی تصویر بنا ہوا تھا۔ نوائے وقت سے گفتگو میں عشرت علی نے کہاکہ ہمارے پورے محلے میں قیامت برپا ہوگئی، کیوں آزادی کے اتنے برس بعد بھی ہم اس قابل نہیں ہوسکے کہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصان سے بچ سکیں۔ مسجد کئی روز بارش کے پانی میں ڈوبی رہی مگرکوئی پرسان حال نہیں تھا۔ عشرت علی نے کہاکہ حماد میرے مستقبل کی آس تھا، اس کی کمی کبھی پوری نہیں ہوسکتی چاہے حکومت اربوں روپیہ بھی دے دے۔ والدہ رضوانہ نے کہاکہ چھت گرنے کی اطلاع سن کر میں دیوانہ وار مسجد کی طرف بھاگی، میرے جیٹھ کے بیٹے نے بتادیا تھاکہ وہ چھت کے نیچے آگیا ہے مگر میرا دل نہیں مانتا تھا، میرے رشتہ دار میرے بیٹے کی ڈیڈباڈی ہسپتالوںکے مردہ خانوں میں تلاش کرتے رہے۔ اس کے جانے سے میرے گھر کی رونق چلی گئی۔ دریں اثناء 40سالہ عاشق کی والدہ نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں 40سالہ عاشق گھر کا واحد کفیل تھا۔ متوفی کی والدہ نے زار و قطار روتے ہوئے بتایا کہ میرا بیٹا گھر سے نماز پڑنے مسجد میں گیا تھا مگر واپس نہیں آیا جبکہ متوفی کی 11سالہ بیٹی باپ کی تصویر سینے سے لگائے باپ کو آوازیں دیتی رہی۔ 13سالہ محمد رزاق کا جب جنازہ اٹھا تو کہرام مچ گیا۔ رشتہ دار خواتین نے سینہ کوبی کی جبکہ ماں اپنے لخت جگر کی جدائی میں بے ہوش ہو گئی۔