آرٹیکل 245 کے تحت بلائی گئی فوج کے اخراجات حکومت برداشت کریگی

لاہور (معین اظہر سے) وفاقی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 245 کے تحت بلائی گئی فوج کے اخراجات حکومت برداشت کریگی۔ فوجی اعتراضات کے بعد وفاقی وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس کے تحت فوج صرف انسداد دہشت گردی کیلئے کام کریگی، امن امان اور دیگر کاموں کیلئے فوجی افسران کو کوئی ہدایات جاری نہیں کر سکے گا۔ تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ نے ملک میں دہشت گردی کے پیش نظر فوج کو دہشت گردی کے خطرات کے تحت طلب کیا تھا، فوج اور وفاقی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کو آئی ایس اے کا نام دیا گیا تھا، اس آئی ایس اے کے تحت فوج اور سول اداروں کی کوآرڈنیشن کی جانی تھی اور کاموں کا تعین کیا گیا تھا جس میں فوج آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے سیکشن چار کی ذیلی شق تین کے تحت بلائی گئی تھی اس ائی ایس اے میں یہ درج نہیں کیا گیا تھا کہ فوج جب سول ایڈمنسٹریشن کی مدد کیلئے آئیگی تو اسکے اخراجات کون برادشت کریگا جس پر فوجی حکام کے اعتراضات کے بعد نیشنل کائونٹر ٹیرزم اتھارٹی نے آئی ایس اے میں دو ترمیم کرنے کیلئے کیس وزارت داخلہ اور وزیراعظم کو بجھوایا جس کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ اس بارے جو دو ترامیم کی گئیں ان کے مطابق فوج کو سول ایڈمنسٹریشن کی مدد کے لئے بلایا جائے گا اور انٹرنل سیکورٹی کے تمام اخراجات وفاقی حکومت ادا کریگی۔ آئی ایس اے کے سیرئل نمبر 7 میں ترمیم کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، اس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں چیف کمشنر اسلام آباد، جبکہ صوبوں میں آئی ایس اے کے تحت فوج کے جتنے افراد کی ضرورت ہوگی اس کا تعین کرکے سول ایڈمنسٹریشن کی مدد کیلئے اتنے فوجی بجھوائے جائیں گے۔ اور جو فوجی بجھوائے جائیں گے وہ وزارت داخلہ کی مدد کیلئے ہونگے۔