ہائیکورٹ کے حکم پر بچے ماں کے حوالے، نانی عدالت میں روتی رہی

لاہور(وقائع نگار خصوصی) لاہورہائیکورٹ کے حکم پر نواسہ اور نواسی کو ماں کے حوالے کرنے پر نانی نے کمرہ عدالت اور بعد ازاں احاطہ ہائی کورٹ میں رو روکر برا حال کرلیا۔ فاضل عدالت نے نانی کو بچوں کے حصول کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ لاہور ہائیکورٹ میں گزشتہ روز کیس کی سماعت شروع ہوئی تو صفیہ بی بی نے بتایاکہ اس کی والدہ نذیراں بی بی نے اس کی بیٹی 6سالہ فضاء اور 4سالہ بیٹے عثمان کو غیرقانونی حراست میں رکھا ہوا ہے۔ وہ کسی طور پر بھی بچوں کو ان کے حوالے نہیں کر رہی۔ درخواست گذار بچوں کی گارڈین ہے۔ لہذا فاضل عدالت بچوں کو ان کے حوالے کرنے کا حکم دے۔ عدالتی حکم پر بیلف نے چھاپہ مار کر دونوں بچوں کو بازیاب کروالیا جس کے بعد عدالت نے دونوں بچے نانی سے لیکر ماں کے حوالے کردئیے۔ جس پر نانی نے بچوں کے حصول کے لیے چیخ و پکار شروع کردی اور رو رو کر دہائی دینے لگی نذیراں بی بی کاکہنا تھا کہ اس کی بیٹی نے کہیں اور شادی کرلی ہے یہ بچوں کی پرورش کیسے کرے گی۔ فاضل عدالت نے نانی کو بچوں کے حصول کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی اور درخواست نمٹا دی۔مزید برآں آن لائن کے مطابق سیشن کورٹ میں دو بچوں نے ناراض والدین کو منا لیا۔ عدالت نے بچوں کی حوالگی کے حوالے سے دائرحبس بے جاکی درخواست خارج کردی۔ شازیہ نے درخواست میں موقف اختیارکیا تھاکہ اسکے خاوند تصدق نے مارپیٹ کرکے گھر سے نکال دیا اور بچوں سات سالہ اریبہ اور آٹھ سالہ زین کوگھر میں محبوس کرلیا۔ گزشتہ سماعت کے دوران بچوں نے دونوں کے ساتھ رہنے کی ضدکی عدالت نے دونوں میاں کو بچوں کے لئے ناراضگی دورکرنے کے لئے وقت دیا جس پر دونوں نے بچوں کوگلے لگاتے ہوئے اکٹھے رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔