ہائیکورٹ: فاٹا کے سینٹ الیکشن روکنے پر صدر، وزیر اعظم کیخلاف درخواست، وفاق، الیکشن کمیشن سے آج جواب طلب

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ میں الیکشن کمشن کی طرف سے آرٹیکل 62,63 اور سینٹ الیکشن رولز کے سیکشن 76 کے تحت الیکشن نہ کروانے اور فاٹا کی سیٹوں پر صدر او ر وزیراعظم کی طرف سے الیکشن کمشن کے اختیارات میں مداخلت کرنے کے خلاف دائر درخواست پر آج 11مارچ کیلئے نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے سینٹ کے الیکشن میں آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، نااہل افراد سکروٹنی کا عمل پاس کرگئے اسی طرح جو افراد ٹیکنوکریٹ نہیں تھے وہ بھی اس عمل سے گذر گئے۔ آرٹیکل 62,63 پر عملدرآمد الیکشن کمشن کی ذمہ داری تھی۔ سینٹ میں فاٹا کے الیکشن نہیں ہوسکے اور اس کی وجہ آخری وقت پر صدر کی طرف سے آرڈیننس کا اجراء تھا۔ جب الیکشن کمشن الیکشن شیڈول جاری کر دے تو انتظامیہ یا حکومت کو اس عمل میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل220 کے تحت وفاق اور صوبے کی تمام انتظامیہ الیکشن کمشن کے احکامات ماننے کی پابند ہیں، صدر کی طرف سے فاٹا میں الیکشن آرڈر جار ی ہونے کے بعد الیکشن نہ ہو سکے۔ صدر پاکستان نے وزیراعظم کی ہدایت پر یہ آرڈر جاری کیا جو الیکشن کمشن کے اختیارات میں مداخلت ہے لہٰذا صدر اور وزیراعظم کو نااہل قرار دیا جائے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اس طرح کے آرڈر تو تب آتے ہیں جب آئین موجود نہ ہو جمہوری دور میں اس طرح کے آرڈر کیسے آسکتے ہیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صدر کو آرڈر جاری کرنے کا اختیار ہے اس لیے جاری کیا۔