محکمہ زراعت، سیڈ کارپوریشن کی عدم توجہی، غیر ملکی اور بھارتی کمپنیوں کا بیج سرعام فروخت ہونے لگا

لاہور(ندیم بسرا)محکمہ زراعت پنجاب اور محکمہ سیڈ کارپوریشن حکام کی عدم توجہ سے مارکیٹ میں غیرملکی ،غیر معیار ی بیج کی سپلائی نے کسانوں کو امتحان میں ڈال دیا ،خصوصاً بھارت کی کمپنیوں کا بیج مارکیٹ میں سرعام فروخت ہونے لگا۔محکمہ سیڈ کارپوریشن کے عملے کی ملی بھگت سے غیر ملکی بیج فروخت کیا جا رہا ہے۔ کسانوں نے پنجاب کی زراعت تباہ کرنے کا سارا الزام بھارت پر لگایا ہے۔بھارت کی گیارہ سے زائد کمپنیاں پاکستان کی مختلف غیر رجسٹرڈ کمپنیوں کیساتھ ملکر صوبہ پنجاب میں اپنا بیج فروخت کرر ہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق لاہور، فیصل آباد، اوکاڑہ، ساہیوال، گجرات، منڈی بہائوالدین، جہلم، راولپنڈی، ملتان اور دیگر شہروںان کمپنیوں نے بغیر لائسنس کے ایجنسیاں کھول رکھی ہیں جہاں پر خصوصاًکپاس کی فصل کیلئے تین برسوںسے فروخت جاری ہے ان میں سے رنگدار بیجوں کی فروخت بھی شامل ہے۔ محکمے کے افسران اور دیگر عملے نے گزشتہ 9ماہ کے دوران سیڈ ایکٹ 1973ء کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس مجرمانہ غفلت کی وجہ سے پاکستانی کسانوں کے خون پسینے کی کمائی غیر رجسٹرڈ غیر ملکی کمپنیاں باہر لے جا رہی ہیں۔ محکمہ فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ زراعت توسیع پنجاب کا عملہ سیڈ کمپنیوں کی ریگولر مانیٹرنگ کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کرر ہا۔ سابق صوبائی وزیر پنجاب احمد علی اولکھ نے اپنی ایک میٹنگ میں پنجاب میں 600رجسٹرڈ سیڈ کمپنیوں کی چھان بین اور قواعد کے مطابق ضروری انفراسٹرکچر نہ رکھنے والی سیڈ کمپنیوں کی رجسٹریشن کو منسوخ کرنے کیلئے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ مگر محکمہ زراعت ،سیڈ کارپوریشن نے اس کے متعلق کوئی کاروائی نہیںکی۔ اب کسانوں کو تصدیق شدہ بیج دستیاب نہیں ہیں۔ کسانوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب کی زراعت کو ایک منظم سازش کے ذریعے تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے محکمہ زراعت،سیڈ کارپورشن خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔