تحریک پاکستان کے پہلے شہید طالب علم محمد مالک نے میری گود میں جان دی: ڈاکٹر مجید نظامی

تحریک پاکستان کے پہلے شہید طالب علم محمد مالک نے میری گود میں جان دی: ڈاکٹر مجید نظامی

لاہور(خصوصی رپورٹر)پاکستان بنانے میں طلبہ نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ محمد مالک نے زمانۂ طالب علمی میں ہی پاکستان کے لیے جان نچھاور کردی۔ان کی قسمت میں شہادت کا درجہ لکھا تھا اور انہوں نے میری گود میں جان دی۔ میری دعا ہے کہ ہم پنجابی، سندھی، بلوچی یا پٹھان بننے کی بجائے سچے پاکستانی بنیں۔ان خیالات کااظہار تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن، ممتازصحافی اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین جناب ڈاکٹر مجید نظامی نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان، شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں تحریک پاکستان کے پہلے شہید طالبعلم محمد مالک کی برسی کے موقع پر خصوصی نشست کے دوران کیا۔اس موقع پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید، اساتذۂ کرام اور طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا کہ آج محمد مالک شہید کی برسی ہے۔وہ اسلامیہ کالج لاہور میں میرے کلاس فیلو تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جب یہاں خضر حیات ٹوانہ کی وزارت قائم تھی اور ہم لوگ بالخصوص اسلامیہ کالج کے طالب علم ’’لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان‘‘اور ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘‘کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ایک دن ہمارا ایک جلوس سناتن دھرم کالج( موجودہ ایم اے او کالج )کے پاس پہنچا تو ہندو طلبہ نے ہم پر اینٹیں برسانا شروع کر دیں، ہم پرجو اینٹیں پھینکی جا رہی تھیں ہم نے بھی انہیں اٹھا کر واپس انہیں پرمارنا شروع کر دیا۔اسی دوران ایک اینٹ محمد مالک شہید کے سر پر لگی۔وہ اینٹ ان کی بجائے مجھے بھی لگ سکتی تھی لیکن شہادت کا درجہ ان کی قسمت میں لکھا تھا۔محمد مالک نے میری گود میں جان دیدی۔مجھے یاد ہے کہ اس دن میں نے خاکی رنگ کی قمیص پہنی ہوئی تھی میں نے اس قمیض کو بہت عرصہ تک سنبھال کررکھا ۔1954ء کو میں لندن چلا گیا تو اس قمیص کو یہاں اپنی ایک الماری میں محفوظ رکھ گیا لیکن واپسی پر مجھے اس الماری میںوہ قمیض نہ ملی۔انہوں نے کہا کہ تحریک پاکستان کے دوران طلبہ نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ہم ہر سال محمد مالک کے یوم شہادت پران کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔محمد مالک نے زمانۂ طالب علمی میں ہی پاکستان کے لیے جان نچھاور کردی۔ انہوں نے کہا حضرت قائداعظمؒ نے علامہ محمد اقبالؒ کے وژن کے مطابق دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان بنایا۔23مارچ1940ء کو اسی لاہور میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور سات سال کے مختصر عرصہ میں پاکستان معرض وجود میں آگیا۔بعدازاں ہماری نالائقی سے پاکستان ایک کے بجائے دو ٹکڑے ہو گیا اور آج وہاں شیخ مجیب کی بیٹی حکمران ہے۔انہوں نے کہا جہاں آجکل ’’نوائے وقت‘‘ کا دفتر ہے کم و بیش اس کے مخالف سمت میں خضر حیات کی کوٹھی ہوتی تھی۔میں آج بھی وہاں جاتا ہوں تو مجھے وہ وقت یاد آجاتا ہے جب ہم جلوسوں میں خضر حیات کیخلاف نعرے لگایا کرتے تھے۔ پاکستان بنانے میں اسلامیہ کالج لاہور،علیگڑھ یونیورسٹی اور اسلامیہ کالج پشار کے طلبہ نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم سچا پاکستانی بننے کی بجائے پنجابی ، سندھی، پختون اور بلوچی کہلوارہے ہیں ۔میری دعا ہے کہ ہم صرف اور صرف پہلے سچے پاکستانی بنیں اور اس کے بعد پنجابی، سندھی، بلوچی یا پٹھان بنیں۔علاوہ ازیں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے ایک وفد نے ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کی قیادت میں محمد مالک شہید کے مزار پر حاضری دی ، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹر مجید نظامی کی جانب سے بھی قبر پر پھول چڑھائے گئے۔اس موقع پرٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید،اساتذۂ کرام اور طلبہ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی میں طلبہ نے بہت اہم کردار ادا کیا۔اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور تحریک پاکستان کا مرکز تھااور قائداعظمؒ متعدد مرتبہ یہاں تشریف لائے۔انہوں نے کہاتحریک پاکستان کے دوران محمد مالک شہید لاہور میں شہید کیے جانیوالے پہلے طالب علم تھے۔ ان کی شہادت نے طلبہ کے حوصلے اور عزم کو مزید مضبوط کیا۔محمد مالک شہید شریف اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ ان کی وفات کے بعد قائداعظمؒ مادر ملتؒ کے ہمراہ ان کے مزار پر آئے اور فاتحہ خوانی کی۔انہوں نے بتایا کہ اسلامیہ کالج تحریک پاکستان کی سرگرمیوں کا مرکز تھا،اس تحریک کے اہم واقعات اور رہنمائوں کی خدمات سے نئی نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبہ ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔اس موقع پر محمد مالک شہیدکی روح کے ایصال ثواب اور بلندیٔ درجات کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔