براہ راست مذاکرات اور فوج کی نمائندگی نہیں ہونی چاہئے: فضل الرحمٰن

 لاہور (سپیشل رپورٹر) جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جے یو آئی مذاکرات ہی کو مسائل کا حل سمجھتی ہے یہ عمل کرنا حکومت کا کام ہے۔ ہمارے نزدیک فوج کی نمائندگی کمیٹی میں نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی براہ راست مذاکرات ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اہم اور حساس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے قبائلی جرگے کی صورت میں بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا جبکہ اسے قومی قیادت کی حمایت بھی حاصل تھی اور اس جرگہ میں خود حکومتی جماعت شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے نام پر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوا کرتے۔ پارٹی رہنمائوں مولانا قمرالدین، ملک سکندر خان اور دیگر سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مذاکرات مذاق بنا دئیے گئے۔ اگر مذاکرات میں سنجیدگی ہوتی تو ہم الگ نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف طالبان سے ہی نہیں بلکہ فاٹا میں موجود دیگر مسلح تنظیموں کے ساتھ بھی ہونے چاہئیں۔ اگر بیرونی ہدایات سے منہ نہ موڑا گیا تو بحران بڑھتے ہی رہیں گے ختم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کے خلاف کوئی قانون منظور نہیں ہونے دیں گے۔