امریکہ اور پاکستانی حکمران امتناع قادیانیت جیسے قوانین ختم نہیں کرسکتے: ختم نبوت کانفرنس

امریکہ اور پاکستانی حکمران امتناع قادیانیت جیسے قوانین ختم نہیں کرسکتے: ختم نبوت کانفرنس

لاہور (سپیشل رپورٹر) تحریک ختم نبوت 1953ء کے 10 ہزار شہداء ختم نبوت کی یاد میں مجلس احرارِ اسلام پاکستان کے مرکزی نائب ناظم قاری محمد یوسف احرارکی میزبانی اور صدارت میں جامع مسجد ختم نبوت (مدرسہ ابی بن کعبؓ) ریس کورس گرائونڈ چند رائے روڈ لاہور میں ’’سالانہ ختم نبوت کانفرنس‘‘کے مقررین نے کہا ہے کہ شہداء ختم نبوت نے اپنے مقدس خون سے تحفظ ختم نبوت کی آبیاری کی اور کفرو ارتداد اور اسلام کے درمیان نہ مٹنے والی لکیر کھینچ دی، یہ لکیر قیامت تک امریکہ اور عالم کفر ختم نہیں کرسکتے۔ انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج، مجلس احرار اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ، خطیب اسلام مولانا عبدالکریم ندیم (خانپور)، مولانا عبدالرشید ارشد (ڈیرہ غازیخان) مولانا علیم الدین شاکر، میاں محمد اویس، قاری محمد قاسم، چودھری محمد ظفر اقبال ایڈووکیٹ، اسرار بخاری اور دیگر نے شرکت و خطاب کیا۔ مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 67 سالوں میں حکمرانوں نے قیام ملک کے اصل مقصد نفاذ اسلام سے غداری کی اور قوم کو دھوکہ دیا جو اب بھی دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا محاذ ہمارے ایمان وعقیدے کا محاذ ہے، اس محاذ کی چوکیداری ہم کرتے رہیں گے۔ عبداللطیف خالد چیمہ نے کہا کہ امریکہ اورپاکستانی حکمران امتناع قادیانیت جیسے قوانین ختم نہیں کرسکتے۔ امریکہ نے کاکس نامی گروپ قائم کیا ہے تاکہ قادیانیوں کی سرپرستی کی جا سکے۔ مولانا عبدالکریم ندیم نے کہا کہ قرآن کریم کی  100 آیات،  210 احادیث نبویؐ اور اجماع اُمت کے مطابق عقیدۂ ختم نبوت کے منکر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور انکے قافلے نے حریت فکر پیدا کی اور انگریز کو برصغیر سے نکلنے کیلئے مجبور کردیا۔ مولانا علیم الدین شاکر نے کہا کہ شہداء ختم نبوت  پر گولیاں برسانے والے ساری عمر چین کی نیند نہ سو سکے۔کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ سودی معیشت ختم کرکے اسلامی نظام معیشت رائج کیا جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے اورحکومت سپریم کورٹ سے سود کے حق میں دائر اپیل واپس لے۔