لوڈشیڈنگ کا دورانیہ پھر 20 گھنٹے ہو گیا‘ مظاہرے جاری

لاہور + کراچی + پنڈی بھٹیاں (نیوز رپورٹر + سٹاف رپورٹر + نامہ نگار) لوڈشیڈنگ کا دورانیہ پھر بڑھ کر 20 گھنٹے تک جا پہنچا جس پر کئی شہروں میں گزشتہ روز بھی عوام نے مظاہرے کئے جبکہ شدید حبس سے درجنوں افراد بیہوش ہو گئے جبکہ وزیر پانی و بجلی احمد مختار نے کہا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر میں ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی طرف سے مسائل ہیں، رینٹل بجلی گھروں کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق بڑے شہروں میں ایک گھنٹے بجلی آتی ہے اور ایک گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ انرجی مینجمنٹ سیل کے مطابق بجلی کا خسارہ تقریباً 4 ہزار میگاواٹ ہے مگر اس کے باوجود پنجاب کے شہروں میں کئی کئی گھنٹے بجلی بند ہو رہی، وزارت پانی و بجلی نے ملکی بجلی کے کل خسارے کا 90 فیصد پنجاب کی 5 تقسیم کار کمپنیوں پر ڈال دیا ہے جس کے بعد پنجاب کے شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم نہیں ہو رہا۔ لاہور اور اس کے مضافات میں بجلی کی بار بار بندش پر شہری سراپا احتجاج ہیں۔ جبکہ لاہور میں ہونیوالی بارش اورتیز آندھی کی وجہ سے بجلی کے ترسیلی نظام کو نقصان پہنچا۔ 90 سے زائد بجلی فیڈرز بندہو گئے جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں 6 سے 8 گھنٹے تک بجلی بند ہوئی۔ پنڈی بھٹیاں میں بدترین لوڈشیڈنگ اور شدید حبس سے لوگوں کا برا حال ہو گیا۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق شدید گرمی کیساتھ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے کراچی ائر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے احمد مختار نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ رمضان میں پورے ملک میں لوڈشیڈنگ نہ ہو۔ وزارت کا چارج لیا تو اس وقت 8 ہزار میگاواٹ بجلی بن رہی تھی آج 14 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں ہے۔ مختصر وقت میں چھ ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ کیا۔