پنجاب میں حساس تنصیبات کے تحفظ، کرایہ داران آرڈیننس جاری

لاہور (خبر نگار) پنجاب حکومت نے صوبے میں سکیورٹی اقدامات کویقینی بنانے اور دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر اہم اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے لئے قانونی اصلاحات کی ہیں اور صوبے میں حساس تنصیبات کے تحفظ کا آرڈی نینس 2015ءلاگو کر دیا ہے جس کے تحت ہر ضلع میں سکیورٹی ایڈوائزری کمیٹی اپنی حدود میں حساس تنصیبات کا تعین اور سہ ماہی بنیادوں پر ان کا معائنہ یقینی بنائے گی۔ اہم اور حساس تنصیبات میں عبادت گاہیں‘ سرکاری دفاتر‘ این جی اوز‘ غیرملکی پراجیکٹس‘ ہسپتال‘ بنک‘ مالیاتی ادارے‘ کمپنیوں کے دفاتر‘ صنعتی یونٹس‘ تعلیمی ادارے‘ پبلک پارکس‘پرائیویٹ کلینکس‘ شادی ہال‘ پٹرول پمپ‘ سی این جی سٹیشنز‘ ہوٹلز‘ تفریح گاہیں‘ کمرشل مارکیٹس اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اڈے شامل ہوں گے۔ آرڈی نینس کی خلاف ورزی پر چھ ماہ تک قید اور پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ پنجاب حکومت نے پراپرٹی ڈیلرز اور مالکان رہائش کی ذمہ داریوں کے لئے کرایہ داران آرڈیننس 2015ءبھی لاگو کر دیا ہے جس کے تحت ہونے والی قانونی اصلاحات میں پراپرٹی ڈیلرز‘ مالکان و کرایہ دارانہ پر یہ لازم ہو گا کہ وہ کسی بھی رہائش کو کرایہ پر دینے کے 48 گھنٹے کے اندر پولیس کو کرایہ داروں کے مکمل کوائف فراہم کریں گے۔ اسی طرح ہوٹل مالکان/مینجرز کسی بھی مہمان کو کمرہ دینے کے 3گھنٹے کے اندر پولیس کو متعلقہ مہمان کے مکمل کوائف فراہم کریں گے۔ کسی بھی ہاسٹل میں طلبا یا سٹاف کے سوا کوئی بھی شخص مینجر سے تحریری پیشگی اجازت کے بغیر قیام نہیں کر سکے گا۔ ہاسٹل کے مینجر پر یہ لازم ہو گا کہ وہ متعلقہ شخص کے کوائف ہاسٹل میں داخل ہونے کے تین گھنٹے کے اندر پولیس کو فراہم کرے۔ مالکان‘پراپرٹی ڈیلرز یا مینجرز یہ یقینی بنائیں گے کہ مہمان یا کرایہ دار کے پاس کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ ہو جس کی نقل فوری طور پر پولیس کو فراہم کی جائے گی۔ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ کرایہ دار یا مہمان کے پاس کسی قسم کا دھماکہ خیزمواد یا اسلحہ نہ ہو۔ ان ہدایات کی خلاف ورزی پر 6 ماہ تک قید اور 10ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

(آرڈیننس)